تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 195 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 195

تاریخ احمدیت۔جلد 22 195 سال 1963ء ۲ دسمبر بروز جمعہ صبح پانچ بجے قادیان سے روانہ ہو کر قریباً ساڑھے بارہ بجے جمعہ سے تھوڑی دیر قبل ربوہ پہنچ گیا اور مجھے اپنی والدہ مرحومہ کی آخری زیارت اور ان کے جنازہ اور تدفین میں شمولیت کی توفیق مل گئی اور یہ سب عین میری والدہ مرحومہ کے بتلائے ہوئے کے مطابق ہوا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ خاکسار جب ۱۷نومبر کو ان سے آخری بار ( جو زندگی میں بھی آخری بار کی ملاقات تھی ) مل کر قادیان واپس جانے لگا تو گلے لگا کر فرمانے لگیں کہ بیٹا ایسا معلوم ہوتا ہے زندگی میں پھر تمہیں نہ دیکھ سکوں گی۔اسی طرح بعض ملنے والی مستورات سے بھی یہ فرمایا کہ وسیم تو مجھے آ کے دیکھ لے گا لیکن میں اسے نہ دیکھ سکوں گی۔اس سانحہ کا ایک درد ناک پہلو یہ بھی ہے کہ میری بیوی اور میری تینوں بچیاں بوجہ پاسپورٹ و ویزا کے ختم ہو جانے میرے ساتھ ربوہ نہ آ سکیں اس سے قبل ہمارے عمو صاحب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات پر وہ ربوہ پہنچ گئی تھیں اور خاکسار اپنے بہت ہی پیارے عمو صاحب کی آخری زیارت سے محروم رہا تھا۔شیخ الا زھر السید محمود شلتوت کی وفات 245 166 اس سال جامعۃ الازھر (مصر کی قدیم اسلامی یونیورسٹی ) کے ریکٹر الاستاذ الاکبر السید محمود شلتوت ۱۳/۱۲ دسمبر ۱۹۶۳ ء کی درمیانی شب انتقال کر گئے۔آپ ۱۸۹۳ء/ ۱۳۱۰ھ میں پیدا ہوئے تھے۔آپ کا شمار عہد حاضر کے ممتاز اور عظیم علماء میں سے ہوتا تھا۔اسلامی فقہ اور اسلامی قانون پر آپ کو بہت عبور حاصل تھا آپ نے چھبیس کتا بیں اپنی یادگار چھوڑیں جن میں سے مشہور یہ ہیں۔التفسير۔حكم الشريعة في استبدال النقد بالهدى القرآن والمرءة۔القرآن و القتال، هذا هو الاسلام، عنصر الخلود في الاسلام الاسلام و التكافل الاجتماعي۔فقه السنه۔احاديث الصباح في المذياع فصول شرعية اجتماعية حكم الشريعة الاسلامية في تنظيم النسل۔الدعوة الـمـحـمـديـه۔فقه القرآن والسنّه۔توجيهات الاسلام۔الاسلام عقيدةً و شريعة۔الاسلام و الوجود و الدولي۔الفتاوى 26 استاذ محمود شلتوت اجتہاد کے دروازے کو بند نہیں سمجھتے تھے۔انہوں نے دار التــقــريــب بيـن المذاهب الاسلامیہ “ نامی ادارہ کی تشکیل و تعمیر میں بھر پور کردار ادا کیا۔اس ادارہ کا بنیادی مقصد