تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 5
تاریخ احمدیت۔جلد 22 5 سال 1963ء عرصۂ صدارت کے دوران ایک ایسا کارنامہ جو ناممکن نظر آ رہا تھا انجام دے کر اقوام متحدہ کی تاریخ میں اپنے لئے ایک منفرد امتیازی مقام پیدا کر دکھایا ہے۔آپ نے ایک سو دس اراکین اقوام پر مشتمل جنرل اسمبلی کے سیشن کو حسب پروگرام نہ صرف تین ماہ میں بلکہ مقررہ عرصہ سے ایک روز قبل ہی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔آپ نے اُن لوگوں کے خدشات کو یکسر باطل کر دکھایا جو گزشتہ سال اس بارہ میں شا کی تھے کہ اسمبلی اپنی وسعت پذیری کے باعث بہت زیادہ بے قابو ہو چکی ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اسے اپنی کارگزاری کو بسرعت انجام دینے کے قابل بنایا جا سکے یا ایجنڈے پر درج شدہ نوے کے قریب مسائل اور ان میں سے بھی علی الخصوص نہایت اہم معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جاسکے۔سر ظفر اللہ نے اس مقصد کے حصول کی خاطر صاف اور سیدھا طریق اختیار کیا۔آپ نے اجلاسوں میں با قاعدگی پیدا کرنے کی غرض سے قطع نظر اس سے کہ تیز وطرار مندوبین روزمرہ کے اجلاس میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہوں یا ہنوز اپنے بستروں میں ہی محو خواب ہوں ، اجلاسوں کو اعلان کردہ وقت کے عین مطابق منعقد کرنا شروع کر دیا۔مزید برآں جب بھی کسی مقرر نے اپنی حکومت پر وکالت کا سکہ بٹھانے کی نیت سے طولانی تقریروں یا دیگر حربوں سے کام لینا چاہا آپ نے کسی رو رعایت کے بغیر اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرنے میں قطعا کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔لیکن سطور ہذا میں فی الوقت سر ظفر اللہ کا ایک اور ہی تعجب خیز کارنامہ پیش کرنا مقصود ہے۔آپ نے ایک دلچسپ کتاب تصنیف فرمائی ہے اس کا نام ہے: "Islam: Its Meaning for Modern Man" اسلام۔دور جدید کے انسان کے لئے اس کا مفہوم ) اس کتاب میں آپ نے سلیس زبان میں اہل مغرب پر اسلام کے ان احکام اور فلسفوں کو واضح فرمایا ہے جن کی وجہ سے اسلام دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک مذہب شمار ہوتا ہے۔آپ کتاب کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔مقصد یہ ہے کہ ان غلط فہمیوں کو دور کیا جائے جو اسلام کے متعلق مغربی ذہن میں موجود چلی آ رہی ہیں۔آپ اس فساد زدہ دنیا کے دکھوں کا مداوا اسلام میں پاتے ہیں۔آپ نے بتایا ہے کہ ”اسلام“ کا لفظ "سلم" سے مشتق ہے جس کے معنے ہیں امن اور اطاعت“۔مسلمانوں کو جو اسلام کے پیرو ہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ امن کے قیام میں دل و جان کے ساتھ کوشاں رہیں، چنانچہ وہ اس بات پر ایمان