تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 4
تاریخ احمدیت۔جلد 22 4 سال 1963ء خوش الحانی سے پڑھ کر اور قرآن مجید اور اسلام کے فضائل سنا کر لوگوں کو مذہب اسلام کی طرف راغب کرتا ہے۔عیسائی صاحبان کو بھی دعوت اسلام دیتا اور ان کے اعتراضات کو سن کر شافی جواب دیتا ہے۔اس کے پاس قریباً دو درجن خوبصورت ، خوش نما قلمی چارٹ بھی ہیں جن پر دینِ اسلام کی خوبیاں اور صحابہ کرام کے فضائل اور خصائل لکھے ہیں۔وہ عربی، اردو، انگریزی کا پینٹر اور اردو پنجابی کا شاعر بھی ہے۔انہی پیشوں سے وہ اپنی روزی خود کماتا ہے۔۱۹۵۸ء اور پھر ۱۹۶۱ء میں اس نے لاہور سے روانہ ہو کر راولپنڈی ، کوہ مری، واہ ، کیمبل پور، نوشہرہ، پشاور، چارسدہ، مردان، ٹوپی، ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ ، بالاکوٹ ، گڑھی حبیب اللہ ، مظفر آباد، کوہالہ، پھر کوہ مری کے پہاڑی مقامات کا نکل سفرا کیلے اکیلے ہی کیا ہے۔ان سفروں سے اس کا بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں میں یہ تحریک کرے کہ با ہمت انسان اب بھی پہلے بزرگوں کی طرح تو کل علی اللہ گھر سے نکل کر اسلام کا پیغام کو نے کونے میں پہنچا سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال رہتی ہے۔وہ اپنے سفروں کے دلچسپ حالات پھر بھی اسی اخبار میں پیش کرے گا۔اس کے سفروں کا ذکر ہندوستان اور پاکستان کے مختلف اخباروں میں آچکا ہے۔اب وہ عنقریب کوئٹہ اور کراچی کے سفر کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔اس کی عمر اب ۶۶ سال ہے۔اس کے تین بیٹے برسر روزگار اور ایک بیٹی ہے جو شادی شدہ ہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو امریکی پریس کا خراج تحسین محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے گزشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترہویں سیشن کے صدر کی حیثیت سے جو گراں بہا خدمات سرانجام دی تھیں امریکی مضمون نگار مسٹر پیئر بے بس (Mr۔Pierre J۔Huss) نے ان پر اپنے ایک مضمون میں آپ کو نہایت زور دار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا۔ان کا یہ مضمون امریکی اخبار (Milwaukee Journal) کے ۱۸ فروری ۱۹۶۳ء کے شمارہ میں شائع ہوا۔جس میں انہوں نے حضرت چوہدری صاحب موصوف کے ایک اور تعجب خیز کارنامہ کا بھی ذکر کیا تھا جو اسلام کے بارہ میں اہل مغرب کی غلط فہمیوں کے ازالہ سے تعلق رکھتا ہے۔ان کے اس مضمون کا اردو تر جمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔سر محمد ظفر اللہ خاں نے جو پاکستان کے ایک باریش فرد ہیں جنرل اسمبلی میں اپنے