تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 183 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 183

تاریخ احمدیت۔جلد 22 183 سال 1963ء ایمان اور اخلاص میں برکت دے اور آپ کو اور آپ کی آئندہ نسلوں کو بھی خدمت دین کی ہمیشہ زیادہ سے زیادہ تو فیق عطا فرماتا رہے۔انصار اللہ کی تنظیم در حقیقت اسی غرض کے لئے کی گئی ہے کہ آپ لوگ خدمت دین کا پاک اور بے لوث جذ بہ اپنے اندر زندہ رکھیں اور وہ امانت جسے آپ نے اپنے بچپن اور جوانی میں سنبھالا اور اُسے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھا۔اس کی اب پہلے سے بھی زیادہ نگہداشت کریں اور اپنے بچوں اور نو جوانوں کو بھی اپنے قدم بقدم چلانے کی کوشش کریں۔بے شک ان کی تنظیمیں الگ الگ ہیں لیکن اطفال الاحمدیہ آخر آپ کے ہی بچے ہیں اور خدام بھی کوئی علیحدہ وجود نہیں بلکہ آپ لوگوں کے ہی بیٹے اور بھائی ہیں۔پس جس طرح ہر باپ کا فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کرے۔اسی طرح انصار اللہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی جماعت کے بچوں اور نو جوانوں کے حالات اور ان کے اخلاق کا جائزہ لیتے رہیں اور اگر خدانخواستہ ان میں کوئی کمزوری دیکھیں تو نرمی اور محبت کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اپنی ظاہری جدو جہد کے ساتھ ساتھ دعاؤں سے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کو جذب کریں اور سب سے بڑھ کر اپنا نیک نمونہ ان کے سامنے پیش کریں تا کہ ان کی فطرت کا مخفی نور چمک اٹھے اور دین کے لئے قربانی اور فدائیت کا جذبہ ان میں ترقی کرے۔اگر جماعت کے یہ تینوں طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھنے لگ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری قومی زندگی ہمیشہ قائم رہ سکتی ہے۔افراد بے شک زندہ نہیں رہ سکتے لیکن قوم اگر اپنے آپ کو روحانی موت سے محفوظ رکھنا چاہے تو وہ محفوظ رکھ سکتی ہے۔پس کوشش کرو کہ خدا تمہیں دائمی روحانی حیات بخشے۔کوشش کرو کہ تم اپنے پیچھے نیک اور پاک نسلیں چھوڑ کر جاؤ تا کہ جب تمہاری موت کا وقت آئے تو تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تمہاری زبان اللہ تعالیٰ کی حمد کر رہی ہو۔تمہیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ہر زمانہ میں حالات کے بدلنے کے ساتھ خدمت دین کے تقاضے بھی بدل جایا کرتے ہیں۔اس زمانہ میں عیسائیت کا فتنہ سب سے بڑا فتنہ ہے جس کے استیصال کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام