تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 180
تاریخ احمدیت۔جلد 22 خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع اور 180 ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا قیمتی مقالہ سال 1963ء اس سال خدام الاحمدیہ کا سالانہ اجتماع ۲۵ ، ۲۶، ۲۷ /اکتوبر ۱۹۶۳ء کو انعقاد پذیر ہوا جس میں ۲۱۲ مجالس کے ۲۵۰۴ خدام نے شرکت کی۔یہ اجتماع ذکر الہی اور علمی و دینی مصروفیات کے پاکیزہ ماحول میں جاری رہا۔تلقین عمل کے ایمان افروز پروگرام میں (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے ۲۶ اکتوبر کی شب کو ایک پر مغز اور قیمتی مقالہ پڑھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت مصلح موعود کی ان بیش قیمت اور زریں ہدایات پر مشتمل تھا جو دنیا بھر کے احمدی نو جوانوں کے لئے مستقل لائحہ عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔اپنے مقالہ کے آغاز میں آپ نے خدام کو اس بنیادی نکتہ کی طرف توجہ دلائی کہ وہ کوئی نیا پروگرام بنانے کے مجاز نہیں ان کی راہیں حضرت مصلح موعود خود متعین فرما چکے ہیں۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے فرمایا:۔حضرت (خلیفة امسیح) ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خاص اغراض و مقاصد کے لئے جماعت میں مجلس خدام الاحمدیہ کا اجراء فرمایا تھا۔اور خود اس مجلس کا لائحہ عمل تجویز فرما کر اس معین اور محدود دائرہ میں خدام کو آزادانہ جدو جہد کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔اور خدام کے لئے ان راہوں کی نشاندہی خود کی تھی۔جن پر انہیں چلنا تھا اور انہیں تاکید فرمائی تھی کہ کوئی نیا پروگرام بنانا تمہارے لئے جائز نہیں۔۔225 پس آپ کا پروگرام وہی ہے جو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے اور آپ کا فرض ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات ہر وقت سامنے رکھیں اور ان کی روشنی میں اور ان کے مطابق مقررہ دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے پروگرام بنا ئیں۔حضور کی علالت کے دنوں میں آپ کی یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ کوئی وفاشعار خادم کوئی با ادب اور فرمانبردار بچہ عارضی جدائی کے ایام میں جو بوجہ سفر یا بیماری ہو اپنے آقا اور روحانی باپ کے ارشادات کو نظر انداز نہیں کیا کرتا اور آج میں آپ بھائیوں کو جن کا صدر میں ایک لمبا عرصہ تک رہ چکا ہوں۔آپ کی اسی بنیادی ذمہ داری کی طرف توجہ دلا نا اپنا اولین فرض سمجھتا ہوں ، تا ایسا نہ ہو کہ دنیا آپ کو اپنے آقا کا بے وفا خادم یا اپنے روحانی باپ کی ناخلف اولا د سمجھے۔پس یاد رکھیں کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایک فعال جماعت ایک فدائی