تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 179 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 179

تاریخ احمدیت۔جلد 22 179 سال 1963ء یہ دوبارہ انتخاب ایک اعجازی نشان کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ ایشیائی اور افریقی ممالک کی آواز کے نتیجہ میں صورت حال نے یکا یک پلٹا کھایا اور سخت مقابلہ کے باوجود آپ کامیاب ہو گئے۔جس کی ایمان افروز تفصیل آپ ہی کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔”عالمی عدالت کی رکنیت کیلئے میرا دوبارہ انتخاب“ اقوام متحدہ کے ۱۹۶۳ء کے سالانہ اجلاس میں عالمی عدالت کے لئے پانچ جوں کا انتخاب ہونا تھا کیونکہ فروری ۱۹۶۴ء میں صدر عدالت اور چار جوں کی میعاد ختم ہونے والی تھی۔ریٹائر ہونے والوں میں صدر عدالت تو فرانس سے تھے اور ایک بج برطانیہ سے تھے چونکہ یہ دونوں ممالک مجلس امن کے مستقل رکن ہیں لہذا دو جوں کا انتخاب انہی دو ملکوں سے ہونا تھا۔باقی تین ریٹائر ہونے والے حج لاطینی امریکن ملکوں سے تھے۔عالمی عدالت کے قیام کے وقت اقوام متحدہ کے اراکین کی کل تعداد اکیا ون تھی جن میں سے ہیں لاطینی امریکن ممالک تھے۔عالمی عدالت کے پندرہ ججوں کے انتخاب کے متعلق یہ مفاہمت تھی کہ پانچ تو مجلس امن کے مستقل اراکین ممالک یعنی ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس ، روس اور چین سے منتخب ہوں گے اور دس باقی ممالک سے۔چونکہ ابتداء میں باقی ممالک میں بیس لاطینی امریکن ممالک تھے لہذا باقی دس جوں میں سے چار جج لاطینی امریکن ممالک سے منتخب ہوتے۔۱۹۶۳ء تک یہ نسبت قائم رہی۔۱۹۶۳ ء تک اراکین اقوام متحدہ میں ایشیائی اور افریقی عصر نصف سے تجاوز کر چکا تھا لیکن عدالت کی رکنیت میں چینی حج کے علاوہ صرف ایک ایشیائی اور ایک افریقی جج تھا۔جب ۱۹۶۳ء کے انتخاب کا وقت آیا تو ایشیائی اور افریقی ممالک کی طرف سے کہا گیا کہ اقوام متحدہ میں ان کی تعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں عدالت کی رکنیت میں مزید حصہ ملنا چاہیئے اور تین لاطینی امریکن جوں کے ریٹائر ہونے پر ایک حج لاطینی امریکہ سے، ایک افریقن ممالک سے اور ایک ایشیائی ممالک سے منتخب ہونا چاہئیے۔ایشیائی ممالک سے ایک تو مجھے نامزد کیا گیا اور دوسرے امیدوار جو نامزد ہوئے وہ لبنان سے تھے۔ایشیائی سیٹ کے لئے مقابلہ میرے اور لبنانی امیدوار کے درمیان تھا۔مقابلہ سخت تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے معجزانہ رنگ میں مجھے کامیابی عطا کی۔الحمد لله 224