تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 178
تاریخ احمدیت۔جلد 22 178 سال 1963ء اپنی تقریر میں اس امر پر بہت مسرت کا اظہار فرمایا کہ تعلیم الاسلام انٹرمیڈیٹ کالج کے قیام کے ذریعہ اس علاقہ میں علم کو فروغ دینے کے لئے جو عظیم الشان کام شروع کیا گیا ہے۔اسے انتہائی توجہ، عزم اور محنت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔آپ اس امر پر خاص طور سے بہت متعجب ہوئے کہ کس طرح ایک سال کے قلیل عرصہ میں ہوٹل کی عمارت کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر بظاہر ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا ہے۔221 آپ نے فرمایا مجھے توقع ہے کہ یہ ادارہ اس علاقہ میں بلا امتیاز مذہب وملت علم کو پھیلانے کا ایک اہم اور موثر ذریعہ ثابت ہوگا۔جناب ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنی تقریر کے آخر میں اپنی جیب سے ایک صد روپیہ کی رقم کالج کو دینے کا اعلان کرتے ہوئے حاضرین مجلس کو بھی عطیہ جات دینے کی تحریک کی۔جس پر مختصر سے وقت میں کئی ہزار روپے نقد اور وعدوں کی صورت میں جمع ہو گئے۔تقاریر کے بعد ڈپٹی کمشنر صاحب نے کالج کے ہوٹل کی عمارت کا افتتاح فرمایا اور (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے دست مبارک سے کالج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور اجتماعی دعا کرائی۔اس علاقہ کا یہ ایک مثالی اجتماع تھا جس میں ضلع سیالکوٹ کی قریباً تمام احمدی جماعتوں کے نمائندگان، غیر از جماعت معززین، اعلیٰ حکام اور یونین کونسل کے چیئر مین کثرت کے ساتھ شامل ہوئے۔علاوہ ازیں سلسلہ احمدیہ کی متعدد مرکزی شخصیات اور پنجاب کی احمدی جماعتوں کے امراء صاحبان کی تشریف آوری نے اس کی رونق کو دوبالا کر دیا۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب کرام کو سیالکوٹ سے گھٹیالیاں لانے کے لئے ایک خاص لاری کا انتظام کیا گیا اور تین صد اصحاب کی خدمت میں عصرانہ پیش کیا گیا۔222 حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب دوبارہ عالمی عدالت کے بیج خدا کے فضل و کرم سے بطل احمدیت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو اب عالمی سطح پر جو مناصب اور اعزازات عطاء ہوئے ایشیاء کی مسلم تاریخ میں اُن کی کوئی نظیر نہیں مل سکی۔اس سال ۲۱ اکتوبر۱۹۶۳ء کو اقوام متحدہ کی حفاظتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے آپ کو دوبارہ عالمی اسمبلی کا حج نو سال کیلئے منتخب کر لیا۔قبل ازیں آپ ۱۹۵۴ء سے ۱۹۶۱ء تک اس معزز عدالت کے بج رہے تھے۔223۔