تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 174 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 174

تاریخ احمدیت۔جلد 22 174 سال 1963ء نیز آپ ہمیں حاسد محسود کی کہانی بھی سنایا کرتے اور فرماتے کہ خدامحسود بنائے حاسد نہ بنائے۔حسد بہت برائیوں کی جڑ ہے۔خدا اس مرض سے بچائے۔اس کا مریض کھجلی کے مریض کی طرح اس کو قسم قسم سے ابھارتا اور اس آگ کو بجھنے نہیں دیتا۔جو دراصل اسی کو جلا رہی ہوتی ہے۔جب ضمیر اس کو نا دم کرنا چاہتا ہے۔تو وہ عیب چینی سے ایک جھوٹی تسلی اپنے دل کو دیتا ہے اور بدگمانی کی راہ اختیار کر کے جوحسد کا ایندھن ثابت ہوتی ہے اس دوزخ کو بھڑکاتا ہے۔حسد اس کی آنکھ پر ایسی پٹی باندھ دیتا ہے کہ وہ نہیں سوچتا کہ اپنا ہی برا کر رہا ہے، محسود کا کچھ نہیں بگڑ رہا۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو ان امراض سے محفوظ رکھے۔اور اپنے بھائیوں کو بھی پیارا اور محبت سے نیک اخلاق سکھانے کی توفیق بخشے۔آمین۔دعا بڑی دولت ہے بہت بڑی نعمت ہے۔جہاں اس سے اپنے مالک و خالق کی محبت بڑھتی ہے۔وہاں مخلوق کے لئے بھی محبت و شفقت زیادہ ہوتی ہے۔قلب کی صفائی کا مجرب نسخہ دعا ہے اس سے کام لیں۔جب اپنے بھائیوں کے لئے دعا کریں گے۔تو آپ محسوس کریں گے کہ ان کی محبت اور ان کی ہر قسم کی بہی خواہی کی خواہش سچے دل سے آپ کے نفوس میں ترقی پارہی ہے۔ایک خاص نرمی اور پیارسب کے لئے دل میں پیدا ہوگا اور سختی کے بھی خواہی خیالات مٹ جائیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کے ساتھ ہو۔والسلام مبارکه (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا پیغام 216 آپ نے بھی اس اہم اجتماع کے لئے ایک مفصل پیغام دیا جس میں نو جوانانِ احمدیت کو نہایت بیش قیمت نصائح کیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔مجھے یہ معلوم کر کے مسرت ہوئی کہ ربوہ کے خدام ۲۵ ، ۲۶ اور ۲۷ ستمبر کو اپنا ایک تربیتی اجتماع منعقد کر رہے ہیں۔تربیت کی غرض سے ایسے اجتماعات خدا تعالیٰ کے فضل سے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں اور ایسے اجتماع قوم کی زندگی کی علامت بھی ہوتے ہیں۔اس اجتماع کے لئے مجھ سے بھی پیغام بھجوانے کی خواہش کی گئی ہے۔چنانچہ اس خواہش کے احترام میں چند باتیں عرض کرتا ہوں۔