تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 173
تاریخ احمدیت۔جلد 22 173 سال 1963ء یہ اخبار عیسائیت کے لئے ایک تکلیف دہ اور خاردار کانٹا ہے۔مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ میں اشاعت اسلام کا زبردست کام خالصہ جماعت احمدیہ کی انتھک کوششوں اور مستقل جد و جہد کے نتیجہ میں انجام پارہا ہے کوئی سنی عالم اس عزت کا مستحق نظر نہیں آتا۔مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ کا پہلا مقامی اجتماع ۲۵ ۲۶ ۲۷ ستمبر ۱۹۶۳ء میں مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کا پہلا مقامی اجتماع منعقد ہوا۔یہ اجتماع گول بازار ربوہ کے ملحقہ میدان میں ہوا۔اس اجتماع کے موقع پر حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ اور ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے خصوصی پیغام دیئے۔یہ دونوں اہم پیغامات چوہدری عبدالعزیز صاحب واقف زندگی مہتم مقامی نے پڑھ کر سنائے۔یہ پیغامات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں۔حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کا خصوصی پیغام برادران عزیز! بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں بیمار ہوں مگر آپ کے مہتمم صاحب مکرم ( مقامی ) نے مجبور کر دیا۔قریباً بند آنکھوں سے لکھ کر یہ چند سطور ارسال ہیں۔ان کے خط سے تین روز پہلے میں نے خواب بلکہ نیم خوابی کی حالت میں نظارہ سا دیکھا کہ چند جوان میرے سامنے کھڑے ہیں اور میں ان کو کچھ نصائح کر رہی ہوں۔اس کے بعد ان کو مخاطب کر کے مگر بلا اختیار یہ مصرعہ حضرت خلیفہ امسیح ثانی کا میری زبان پر جاری ہوا: عیب چینی نه کرو مفسد و نمام نه هو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک واقعہ ہمیں سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ کو کسی شخص نے آن کر کہا کہ فلاں شخص آپ کو ایسا ایسا برا بھلا کہتا ہے۔ان بزرگ نے سنکر فرمایا کہ اس نے مجھ پر تیر چلایا مگر وہ راہ میں گر پڑا۔تم نے اس کو اٹھا کر لا کے میرے سینے میں چھو دیا۔گویا دکھ دینے والے تم ہوئے۔تو آپ لوگ بھی ان عیوب سے بچیں۔نیک خیالات رکھیں اور نیکی پھیلائیں۔اپنے گرتے ہوئے بھائیوں کے بازو اور سہارا بن جائیں۔