تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 166 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 166

تاریخ احمدیت۔جلد 22 166 سال 1963ء کی تقریب پیدا ہوگئی۔امسال جلسے پر گذشتہ سال کی نسبت دگنی تعداد میں احباب تشریف لائے تھے۔ہم عینی شاہد ہیں اس امر کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جماعت میں باہمی محبت و اخلاص اور رشتہ اخوت کے قیام کی جو خبر دی تھی وہ بڑی شان سے پوری ہوئی ہے۔دوسری غرض یہ تھی کہ وہاں غیر از جماعت دوستوں سے مل کر غلط فہمیوں کا تدارک کریں اور انہیں بتائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عشق قرآن اور عشق رسول کا کیا بے پناہ جذبہ ہمارے دلوں میں پیدا کیا ہے اور کس طرح اس جذبہ کے زیر اثر ہمیں دنیا بھر میں اسلام کو غالب کرنے اور مختلف ملکوں اور قوموں کے افراد کو اپنی ہی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا والہ وشیدا بنانے کی توفیق مل رہی ہے۔وہاں جو مختلف تقاریب اور جلسے بالخصوص جلسہ سالانہ کے مختلف اجلاس منعقد ہوئے ان میں افسران، پروفیسر، طلباء ڈاکٹر ز ، تاجر وصناع وغیرہ ہر طبقہ کے لوگ بڑی کثرت سے شریک ہوئے۔تقاریر سے استفادہ کیا جائے اور سوال وجواب کے ذریعہ اپنے شکوک کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔دوم۔جہاں تک ممکن ہو سکے لوگوں کے سامنے حقیقی اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اصل غرض پیش کر کے غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔سوم۔مشرقی پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب غیر مسلم آباد ہیں۔ان میں ہندو، بدھ مت والے اور عیسائی شامل ہیں۔عیسائیوں کی تعداد گو تھوڑی ہے لیکن ان کی مشنری سرگرمیاں بہت تیزی اختیار کرتی جا رہی ہیں۔سو اس دورہ کا اہم مقصد یہ تھا کہ دیگر مذاہب بالخصوص عیسائیت کی طرف سے وہاں اسلام کے خلاف جو سر گرمیاں جاری ہیں۔اُن کا مطالعہ کر کے دفاع کی تیاری کی جائے پھر اس کے خلاف جوابی حملے کے لئے سکیم مرتب کی جائے۔سویہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ یہ دورہ ان ہر سہ گونہ مقاصد کے اعتبار سے بہت کامیاب ثابت ہوا۔جہاں تک دورے کی پہلی غرض کا تعلق ہے میں اور میرے رفقاء کو متعدد جماعتوں میں جا کر دوستوں سے ملنے کا موقعہ ملا اور پھر انجمن احمد یہ مشرقی پاکستان کے جلسہ سالانہ کے موقع پر دور دراز علاقوں تک کے احمدی احباب سے ملنے اور ملاقات کرنے کی تقریب پیدا ہوگئی۔جلسہ سالانہ میں ہر طبقہ کے لوگ افسران، پروفیسر، طلباء، ڈاکٹرز، تاجر وصناع متوسط طبقہ کے لوگ اور کام پیشہ سب ہی