تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 3
تاریخ احمدیت۔جلد 22 3 سال 1963ء حاضرین کے اندر ایک دینی جوش اور ولولہ پیدا کر دیتا ہے۔اب اس کی عمر ۶۵ سال ہے۔عربی، اردو، ہے۔اب انگریزی کا خوشنویس اور پینٹر بھی ہے اور پنجابی کا شاعر بھی۔اسی ذریعہ سے وہ اپنی روزی کماتا ہے۔اسلامی کیلنڈر، دعا ئیں، نماز مترجم اور نعتوں کے چارٹ چھپوا کر فروخت کرتا ہے مساجد پر کلمہ طیبہ اور آیات قرآنی و احادیث بھی لکھتا ہے۔خوش الحانی سے جب وہ عمدہ عمدہ نظمیں اور نغمے سناتا ہے تو سینکڑوں لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔حنیف قمر اسلام کے فضائل اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے پاکیزہ خصائل پر سکولوں میں لیکچر بھی دیتا ہے۔66 اس کے سائیکل پر تین بکس، دو بالٹیاں، چار بیگ مختصر بستہ، بڑا پوسٹر آگے کلمہ شریف کا پرچم سر سر پر چھتری لگی ہے اور سرخ کپڑے پر پورا کلمہ طیبہ لکھ کر خوبصورت اور دلکش بنایا ہے۔پیچھے ٹیبل کلاتھ کا ایک بورڈ جس پر نام اور ۹ دسمبر ۱۹۶۲ ء تک کے سفر کی کل میزان ۳۲۶۰۲ میل وغیرہ لکھی ہے۔سامان کا وزن ڈیڑھ من ہے۔جنگلوں اور پہاڑوں کے سفر میں اپنا کھانا خود پکاتا ہے۔ضروری برتن ، انگیٹھی کوئلہ اور راشن اس کے ساتھ ہے۔ایسے صوفی اور مجاہد قرون اولیٰ میں ہی نظر آتے ہیں۔موجودہ زمانے میں اس کی مثال شاذ ہی ملتی ہے۔الا ما شاء اللہ۔اس کے پاس ہزاروں دیہات کی فلم ہے۔“ پانچ ماہ بعد راولپنڈی کے اخبار ” تعمیر نے بھی آپ کا نہایت عمدہ الفاظ میں تعارف شائع کیا۔جسے اخبار بدر قادیان نے ۱۰ راکتو بر ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں حسب ذیل نوٹ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ریکارڈ کر دیا۔موضع کنڈور ضلع میر پور آزاد کشمیر کے رہنے والے قریشی محمد حنیف صاحب قمر علوی نے سائیکل پر کافی سامان لوڈ کر کے سفر کرنے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کیا ہے جس کے اوپر عمدہ طریق سے تین بکس، دو بالٹیاں، چار بیگ، سر پر چھتری، کیریئر پر ایک بڑا پوسٹر اور نیچے ایک کپڑے کا بڑا بورڈ ، ہینڈل کے اوپر سامنے ایک سرخ کپڑے پر سفیدے سے کلمہ طیبہ لکھا ہے۔اس کے سارے سامان کا بوجھ ۱۲۰ پونڈ (ڈیڑھ من) ہے۔کھانا پکانے کے برتن، مرمت کا سامان ، بستر ، کپڑے، کتب، چارٹ، خشک راشن، کوئلہ، انگیٹھی سب ضروری اشیاء رکھی ہیں۔یہ سائیکل بارہ فٹ لمبا اور ۹ فٹ اونچا بنایا گیا ہے اور یہ اس کا چوتھا سائیکل ہر کولیس کمپنی کا ہے جو کہ پندرہ سال سے زیر استعمال ہے۔اس پر قریباً ۱۵ ہزار میل سفر کیا گیا ہے۔تقسیم ملک سے قبل اس نے ہندوستان کے صوبہ یوپی ،سی پی ، اڑیسہ اور متحدہ بنگال میں لمبے سفر کئے۔ایسی زندگی اس نے ۱۹۲۳ء سے شروع کر رکھی ہے گویا قریباً ۴۰ سال ہوئے ہیں۔بنگالی اور اڑیہ اور عربی ، فارسی، اردوزبانوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتیں بہت