تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 163 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 163

تاریخ احمدیت۔جلد 22 163 سال 1963ء اور ہندو معززین اور سر بر آوردہ حضرات نے شرکت کی۔اس موقع پر شیخ بشیر احمد صاحب نے ایک مختصر مگر بہت مؤثر تقریر میں حاضرین سے آپ کا تعارف کرایا۔تقریر کا خلاصہ چٹا گانگ کے اخبارا لیسٹرن ایگزامینر (Eastern Examiner) میں شائع ہوا۔۲۴ ستمبر کو دو پہر سے قبل حضرت صاحبزادہ صاحب نے اس علاقہ میں احمدیت کے فروغ کا جائزہ لیا اور شام کو مسلم انسٹی ٹیوٹ ہال میں ایک عظیم الشان جلسہ سے فاضلانہ خطاب فرمایا۔آپ کے علاوہ شیخ بشیر احمد صاحب اور مولانا ابوالعطاء صاحب نے بھی اسلام کے مختلف پہلوؤں پر نہایت مؤثر اور بصیرت افروز تقاریر فرمائیں۔۲۵ ستمبر کی صبح کو آپ مع دیگر ارکان قافلہ چٹا گانگ سے واپس ڈھا کہ تشریف لائے اگلے روز آپ سٹیمر کے ذریعہ جیسور اور کھلنا ہوتے ہوئے جناب مولوی محمد صاحب، مولانا ابوالعطاء صاحب اور مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب کی معیت میں نرائن گنج پہنچے جہاں احباب نے والہانہ استقبال کیا۔۲۷ ستمبر کی صبح کو آپ نے ڈھاکہ کی نئی آبادی میں صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب کے مکان کا سنگ بنیاد رکھا پھر ڈھاکہ کے تعلیمی ادارے دیکھے۔جس ادارہ میں بھی تشریف لے گئے۔اس کے سربراہ نے آپ کا استقبال کیا۔واپس آکر آپ نے نماز جمعہ پڑھائی اور خطبہ میں احمدی احباب کو روحانی ترقی میں نمایاں امتیاز حاصل کرنے اور اخوت و محبت کا بہت اعلیٰ نمونہ دکھانے کی تلقین فرمائی۔جمعہ کے بعد جماعت احمدیہ مشرقی پاکستان کا چوالیسواں تاریخی جلسہ سالانہ شروع ہوا جو ۲۹ ستمبر کی شام تک نہایت کامیابی سے جاری رہا اور ایمان و اخلاص اور دعا کے روح پرور ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔جلسہ میں پانچ ہزار کے قریب حاضرین تھے جن میں شہر کے بہت سے معززین بھی شامل تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب اور مرکزی وفد کی اہم علمی اور تربیتی موضوعات پر بصیرت افروز تقاریر ہوئیں۔جو بہت انہماک اور دلچسپی سے سنی گئیں۔جلسہ کے دوسرے مقررین کے نام یہ ہیں سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ، چوہدری احمد رفیق صاحب، شیخ محمود الحسن صاحب، محمد سلیم اللہ صاحب اور مولوی غلام صمدانی صاحب خادم پلیڈر۔جلسہ ہی کے ایام میں انجمن احمد یہ مشرقی پاکستان کی طرف سے حضرت صاحبزادہ صاحب اور دیگر ممبران وفد کے اعزاز میں ۵ بجے شام استقبالیہ دیا گیا۔یہ ایک بہت وسیع اور پُر رونق تقریب تھی جس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس امیر الدین صاحب، محترم جسٹس باقر صاحب، ڈویژنل