تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 160 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 160

تاریخ احمدیت۔جلد 22 160 سال 1963ء قادیانی مرتد کو اہل و عیال سمیت اس علاقہ سے جبراً نکال دو کہ حکومت کوئی مداخلت نہ کر سکے۔اس کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کر کے کلیہ اس سے بائیکاٹ کر دو۔وغیرہ۔“ اس زہر افشانی کا مسلمانوں پر بہت گہرا اثر ہوا اور پہلے سے زیادہ ان غریبوں کو اپنے ظلم وستم کا شکار بنانے لگے۔ان کا صرف یہ مقصد تھا کہ کسی نہ کسی رنگ میں ان احمد یوں کو اس علاقہ سے نکال دیں۔اور ان کی مسجد کو ویران کر دیں اور اس طرح اس علاقہ سے احمدیت کا نام ونشان مٹادیں۔ان کو اپنی اس کوشش اور سازش میں ایک عارضی کامیابی اس رنگ میں حاصل ہوئی کہ مکرم محی الدین صاحب کی زوجہ ثانیہ جو کہ تا حال غیر احمدی تھی۔ان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئی۔اور دشمنوں کی صف میں جا کھڑی ہوئی۔اس کے علاوہ ان کے خلاف مختلف قسم کے مقدمات دائر کئے گئے اور ذریعہ معاش کے تمام راستے بند کر دئے۔بالآخر ان لوگوں کی درندگی اس رنگ میں ظاہر ہوئی کہ مورخه ۲۴ اکتو بر ۱۹۶۲ء کو مکرم محی الدین صاحب اور ان کے دولڑکوں اور دونوں بہوؤں کو اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مقدمات میں ہار جانے کی وجہ سے گھر سے نکال دیا۔اب ان کے لئے اس علاقہ میں سوائے خدا کے اور کوئی سہارا نہیں تھا۔اوپر آسمان اور نیچے زمین چاروں طرف دشمن ہی دشمن جو ہر آن ان کی جان کے در پے تھے۔!!! اور دوسری طرف مخالفین میں خوشی ، مسرت اور شادمانی کی لہر دوڑ گئی تھی۔اور اپنے مقصد کی کامیابی کے نتیجہ میں ہر بچہ بوڑھا خوشی سے اچھلتا کودتا تھا۔لیکن ان لوگوں کو کیا معلوم کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر ان کی خوشی اور شادمانی کو ماتم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔محی الدین صاحب نے اس مسجد کے گرد اپنے ڈیرے ڈال دیئے اور اپنی دونوں بہوؤں کو ان کے میکے بھیج دیا۔اور سینہ سپر ہو کر مخالفت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ دن بھی دکھایا کہ ان کے ایک لڑکے نے اسی مسجد کے قریب ایک خوبصورت اور خوشنما گھر تعمیر کیا۔اور اس طرح خدا تعالیٰ نے انہیں پہلے سے زیادہ عزت اور وقار کے ساتھ اس گھر میں بودوباش اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔الحمدللہ اس طرح جن کمزور احمدیوں کو مخالفین نے محض قبول حق کے باعث ظلم وستم کا نشانہ بنایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید و نصرت سے انہیں نوازا اور اس طرح حق کے مخالفین اپنے بدا را دوں میں خائب و خاسر