تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 159
تاریخ احمدیت۔جلد 22 159 سال 1963ء رسول کی آواز پر لبیک کہو جب کہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلاتا ہے۔پس دنیا کی زندگی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کرنے میں ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم احیاء دین اور اشاعت اسلام کے کام کو اس زور سے اختیار کریں کہ دنیا کے کونہ کو نہ سے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی آوازیں آنے لگیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ لوگوں کو اس امر کی سچی توفیق عطا فرمائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اُونچا لہراتا رہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد ۸ ستمبر ۱۹۶۳ء مالا بار میں نصرت خداوندی کا عظیم نشان جماعت احمدیہ کی تاریخ تائید و نصرت کے آسمانی نشانوں سے بھری پڑی ہے۔یہ نشان دنیا کے ہر براعظم اور ہر ملک میں ظاہر ہوئے ہیں۔اس سال مالا بار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام إِنِّي مُعِيُنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَكَ “ کا جس شاندار رنگ میں ظہور ہوا وہ عظیم نشان کی حیثیت رکھتا ہے۔جس کی تفصیل مولوی محمد عمر صاحب فاضل مبلغ سلسلہ احمدیہ کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے۔مالا بار میں علاقہ بڑا گرا ( Badagara) اہل سنت والجماعۃ کا ایک مرکز ہے اور احمدیوں کے شدید معاندین کا ایک گڑھ ہے۔خدا تعالیٰ نے یہاں بھی ایک چھوٹی سی جماعت مکرم ایم پی محی الدین صاحب اور ان کے اہل وعیال کے ذریعہ قائم فرمائی۔اور ایک چھوٹی سی مسجد بھی بغرض مشن ہاؤس تعمیر ہوئی۔اسی اثناء میں ۱۹۵۳ء کے اوائل میں مالا بار کے ایک مشہور غیر احمدی واعظ مولوی ای کے ابوبکر صاحب نے مقامی مسجد میں جماعت احمدیہ کے خلاف ایک زہر آلود تقریر کی جس کے آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کانے اور ان کے خلاف جہاد کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ:۔مجھے اس بات نے بے حد تکلیف پہنچائی ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کے درمیان ایک قادیانی کا فر و مرتد اپنے اہل وعیال سمیت ایک عرصہ سے رہ رہا ہے۔یہ بات تمام مسلمانوں کے لئے عار اور ذلت کا باعث ہے۔ایک مرتد اور کافر کے ارد گرد بسنے والے چالیس گھروں پر اس کی وجہ سے قہر نازل ہوتا ہے۔اس لئے تم لوگوں کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئیے۔اور تمہارا ایمان اب خطرہ میں ہے۔اس لئے اب یہ تمہارا دینی فرض بن چکا ہے کہ تم اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کو جمع کر کے اس رنگ میں اس