تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 158
تاریخ احمدیت۔جلد 22 158 سال 1963ء کے بیٹے ہیں اور ان کی موجودگی میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنا ہمارے لئے ناممکن ہے۔دشمن اس لئے حملہ کرتا ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ ابتر خیال کرتا ہے لیکن اگر اسے معلوم ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کروڑوں بیٹے دنیا میں موجود ہیں اور اگر اسے معلوم ہو کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ساری جان اور اپنے سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے تو پھر اس کی کیا طاقت ہے کہ وہ آپ پر حملہ کر سکے۔پس تبلیغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرو اور اسلام کی اشاعت پر زور دو تا کہ وہ لوگ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتے ہیں وہ آپ پر درود اور سلام بھیجنے لگیں۔مکہ کے لوگوں کی گالیاں آخر کس طرح دور ہوئیں۔اسی طرح کہ وہ اسلام کو قبول کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دور د بھیجنے لگے۔پس اب بھی یہی علاج ہے اور یہی وہ تدبیر ہے جس سے ہر شریف الطبع انسان اسلام کی خوبیوں کا قائل ہو جائے گا اور ہر شریر الطبع انسان مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر مرعوب ہو جائے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتوں کے امراء اور سیکرٹریان اس تحریک کے پہنچتے ہی اپنے اپنے علاقہ کے احمدیوں کو پوری طرح اس میں حصہ لینے کی تلقین کریں گے اور صدرانجمن احمد یہ اس کی نگرانی اور انتظام کرے گی اور ان سے غیر مسلموں میں تبلیغ اسلام کرنے کے لئے اپنے اوقات وقف کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ہر احمدی کو سال میں کم از کم ایک ہفتہ غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے وقف کرنا چاہئیے۔بے شک اس کے لئے انہیں ایک لمبی قربانی سے کام لینا پڑے گا لیکن یہی قربانیوں کی رات ہے جو ایک خالص خوشی کا دن اُن پر چڑھائے گی اور دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پھر زندگی کا سانس لینے لگ جائے گی کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لئے آئے ہیں کہ وہ دنیا کو زندہ کریں اللہ تعالیٰ آسمان سے اُن کے حق میں گواہی دیتا ہے کہ يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال : ۲۵) اے مومنو اللہ اور اس کے で