تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 149
تاریخ احمدیت۔جلد 22 149 دد سال 1963ء طبیعت میں بلند پایہ مزاح بھی تھا اور بعض مرتبہ نصیحت کرتے وقت اس جوہر سے کام لیتے تھے۔اپنے ایک پرانے رفیق ( مکرمی در د صاحب) کا ایک بچہ باہر سے ربوہ آیا اور بغیر ملاقات واپس چلا گیا تو اسے لکھا کہ میں نے سُنا ہے تم آئے تھے لیکن اغلبا تم نے اپنے بزرگوں سے تعلقات کو کافی سمجھا اور ملاقات کی ضرورت کو محسوس نہیں کیا۔علمی تحقیق کا ذوق رکھتے تھے اور نو جوانی کے زمانہ سے اسلام اور احمدیت کی خدمت میں اپنا قلم اٹھایا اور ۲ کے قریب قیمتی کتب اور رسائل کا روحانی خزانہ اپنے پیچھے چھوڑا۔اس کے علاوہ الفضل میں با قاعدگی سے ہر موقع پر مضامین لکھتے رہے۔طرز تحریر بہت دلکش اور سادہ تھا اور مشکل سے مشکل مضمون کو سادگی سے نبھانے والی اور بڑی صاف تحریر تھی جو اپنے خلوص کی وجہ سے دل میں اترتی جاتی تھی۔اپنی کتب میں ”سیرۃ خاتم النبین “ اور ”سیرۃ المہدی“ کے علاوہ تبلیغ ہدایت کو بھی اس خیال سے پسند فرماتے تھے کہ یہ میری جوانی کے زمانہ کی یادگار ہے۔جب آپ نے یہ مفید کتاب لکھی تو آپ کی عمر اس وقت ۲۹ سال تھی۔مرکز احمدیت سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔شروع میں قادیان اور پھر اب ربوہ سے بھی یہ وابستگی قائم رہی۔مرکز سے باہر جانا آپ کی طبیعت پر بہت گراں گزرتا تھا اور سوائے خلیفہ وقت کے حکم یا اشد طبی ضرورت کے باہر نہ جاتے تھے۔قادیان سے عشق قائم رہا اور درویشان کی خدمت بڑے ذوق اور شوق سے کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے الہامات اور تحریرات کی روشنی میں اس پختہ یقین پر قائم تھے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اپنے وقت پر مرکز احمدیت جماعت کو واپس دلائے گی اور کوئی دنیاوی تدبیر اس میں حائل نہ ہو سکے گی۔فرمایا کرتے تھے کہ الہامات اور حضرت اقدس کی تحریرات میں وقت کا تعین نہیں بلکہ یہ اشارہ ہے کہ یہ واقعہ اچانک اور ایسے رنگ میں ہوگا کہ بظاہر ناممکن نظر آئے گا اور اس کی درمیانی کڑیاں نظر سے اوجھل رہیں گی۔مرکز سے وابستگی کا یہ عالم تھا کہ اپنی آخری بیماری کے ایام میں جب گھوڑا گلی طبی مشورہ کے تحت تشریف لے گئے تو ایک منذ رخواب کی بناء پر فرمایا کہ پروگرام سے پہلے واپس چلیں اور مجھے کہنے لگے کہ پرندہ اپنے گھونسلے میں ہی خوش رہتا ہے میں تو ربوہ جانا پسند کروں گا لیکن چونکہ وہاں بجلی کا انتظام ناقص ہے اور شاید طبی لحاظ سے بھی لاہور سے گزرنا مناسب ہو اس لئے لاہور جانا پڑتا ہے ایسی کیفیت کے تحت میرے چھوٹے بھائی مرزا منیر احمد کو تاکید فرمایا کہ دیکھو میرا جنازہ ربوہ بغیر کسی توقف کے