تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 148 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 148

تاریخ احمدیت۔جلد 22 148 سال 1963ء کھول کر اس میں تمام متعلقہ کا غذات اہتمام سے رکھتے تھے۔خط لکھتے وقت یا یادداشتی نوٹ نمبر وار لکھتے اور انہیں سرخ سیاہی سے نمایاں کر لیا کرتے تھے۔ایک سے زائد کاغذ کو پن کے ساتھ نتھی کرتے۔غرضیکہ نفاست اور باریک بینی کے اس میلان کا مظاہرہ ہر جگہ ہوتا تھا۔انتظامی قابلیت خدا نے بہت دے رکھی تھی اور ہر انتظامی معاملہ میں بڑی تفصیل میں جاتے تھے اور اس کے کسی پہلو کو نظر انداز نہ ہونے دیتے تھے۔فرمایا کرتے کہ موٹی موٹی باتیں تو ذہن میں آہی جاتی ہیں لیکن انتظامی نا کامی چھوٹی باتوں کی طرف سے غفلت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔طبیعت کے اس محتاط پہلو کا نتیجہ تھا کہ جہاں تحریر کو بڑی احتیاط سے دیکھتے اور درستی فرماتے وہاں زبانی ارشاد کو دوسرے سے دہر والیا کرتے تھے تاغلط فہمی کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔معاملہ کے بہت صاف تھے ہر چیز کا باقاعدہ حساب رکھتے اور اس معاملہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ خود کرتے اور نہ دوسرے کی طرف سے پسند فرماتے۔قرض سے بہت بچتے تھے۔خود تنگی برداشت کر لیتے لیکن قرض سے حتی الوسع گریز کرتے اور اگر کبھی ناگزیر ہو جائے تو اس کی ادائیگی میں کمال با قاعدگی سے کام لیتے۔طبیعت کا یہ خاصہ صرف مالی لین دین تک محدود نہ تھا بلکہ ہر شعبہ میں نمایاں ہوتا۔سیدھی بات کو پسند فرماتے اور پیچدار بات سے بیزاری کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔لباس بہت سادہ پہنتے تھے اور تنگ لباس کو برداشت نہ کرتے تھے۔سفید قمیص اور شلوار، کھلا لمبا کوٹ اور پگڑی پہنتے تھے۔کبھی کبھی خصوصاً غیر رسمی مواقع پر ٹوپی بھی پہن لیتے تھے۔شروع میں دیسی جوتی پہنا کرتے تھے لیکن بعد میں گر گاہی طرز کا کھلا بغیر تسموں والا بوٹ۔یہی سادگی رہائش میں پسند فرماتے تھے۔اور نمائش کی چیزوں سے گھبراتے تھے۔رہائش میں مشقت پسند فرماتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ جب شروع شروع Air Condition کا رواج بڑھا اور میں نے ایک خریدا تو میری طبیعت پر یہ بات گراں گزری کہ میں اپنے لئے کوئی ایسا آرام ڈھونڈوں جوابا جان کے استعمال میں نہ ہو۔چنانچہ میں نے اس کیفیت کے مدنظر اور ربوہ کی شدید گرمی کا احساس کرتے ہوئے ایک Air Condition تحفہ بھیجا اور آدمی بھیج کر اسے آپ کے کمرے میں لگوا دیا۔اسے استعمال فرماتے رہے لیکن ایک مرتبہ خراب ہو گیا تو خفگی سے فرمایا کہ مظفر نے خواہ نخواہ مجھے اس کی عادت ڈال دی ہے اور اس کے بند یا خراب ہونے سے اب مجھے تکلیف ہوتی ہے ورنہ میں اپنے لئے کسی ایسی سہولت کو مرغوب نہیں پاتا۔