تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 141 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 141

تاریخ احمدیت۔جلد 22 141 سال 1963ء جھلکیاں بہت قریب سے گھریلو ماحول میں دیکھی ہیں۔آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا رنگ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ نبض دل کے تابع ہو۔عمر بھر اس تعلق کو کمال وفاداری سے نبھایا اور اس کیفیت میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہ ہونے دیا۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے ایک بھائی پر حضور ناراض ہو گئے اور اس ناراضگی کا الفضل میں اعلان بھی فرمایا۔اباجان نے مشورہ کے لئے ہم سب کو اکٹھا کیا۔بچوں کے علاوہ جو احباب اس وقت موجود تھے۔ان میں ہمارے چچا جان (حضرت مرزا شریف احمد صاحب) اور غالبا مکرمی درد صاحب بھی شامل تھے۔میں نے پہلی مرتبہ روتے ہوئے ابا جان کو اس مجلس میں دیکھا۔بڑا کرب اور قلق تھا اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنی اولاد کی دنیوی حالت کی نہ خبر ہے نہ فکر۔اور شائد میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ مجھے کبھی یہ بھی دلچسپی نہیں پیدا ہوئی کہ مظفر کی تنخواہ کیا ہے۔اپنے ایک مکتوب میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے نام تحریر فرماتے ہیں ” میری آمدنی اس وقت صرف تنخواہ تک محدود ہے جو خرچ کے مقابل بہت کم ہے اور دوسری طرف بچوں کے ساتھ میں نے کبھی کسی طرح کا اشتراک رکھا نہیں بلکہ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ کس بچہ کی کتنی آمد ہے اور کتنی نہیں ؟ لیکن بہر حال خدا کے فضل پر بھروسہ کر کے بیٹھے ہیں کہ وہ جلد کوئی رستہ کھول دے گا لیکن باوجود اس تکلیف کے خود حضور کی خدمت میں کوئی درخواست پیش نہ کی اور شاید اس جذبہ سے نہ کی کہ آپ کی طرف سے ایسی تحریر انتظامی اور جماعتی معاملات میں مداخلت تصور نہ ہو۔البتہ میرے متعلقہ بھائی کو بار بار اور تاکیداً تلقین کرتے رہے کہ حضور سے معافی کی درخواست اور استدعا کرتے رہو اور اس معاملہ میں خود بھی دعا فرماتے رہے اور اپنے دوستوں اور بزرگوں کی خدمت میں بھی دعا کے لئے با قاعدہ لکھتے رہے۔200 حضور کا سلوک بھی ابا جان سے بہت شفقت کا تھا اور ہمیشہ خاص خیال رکھتے تھے اور اہم معاملات میں مشورہ بھی لیتے تھے۔ضروری تحریرات خصوصاً جو گورنمنٹ کو جانی ہوتی تھیں۔ان کے مسودات ابا جان کو بھی دکھاتے تھے اور اس کے علاوہ اہم فیصلہ جات اور سکیم پر عملدرآمد کا کام اکثر ابا جان کے سپر د کرتے تھے اور اس بات پر مطمئن ہوتے تھے کہ یہ کام حسب منشاء اور خوش اسلوبی سے ہو جائے گا۔حضرت اماں جان کا بھی ابا جان بہت احترام کرتے تھے اور ان کے وجود سے جو برکات وابستہ تھیں۔ان سے کماحقہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ قادیان میں آپ کا معمول