تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 139 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 139

تاریخ احمدیت۔جلد 22 139 سال 1963ء لئے اب اور انتظار نہ کرو۔چنانچہ کار چل پڑی اور عموں صاحب روتے ہوئے واپس چلے گئے۔جانے سے پہلے ہی مجھ سے وعدہ لے لیا تھا کہ پھر جلد آؤں گا۔چنانچہ ۲۹ کو سیالکوٹ کے جلسہ پر جاتے ہوئے لاہور خدمت میں حاضر ہوا۔اس روز تقریباً تمام دن اور اکثر رات اپنے پاس بٹھائے رکھا۔نیند سے گھبراتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب میں سوؤں تو دیکھتے رہنا۔یہ دن اور یہ رات غالباً آپ کی بیماری کے سب سے زیادہ بے چین دن رات تھے۔جماعت کا سخت فکر دامنگیر تھا۔حضور ایدہ اللہ کی بیماری کی تشویش بیقرار کر رہی تھی۔ضرورتمندوں کا فکر تھا۔مظلوموں کا فکر تھا۔اُن شکایات کرنے والوں کا فکر تھا جو کسی جماعتی عہد یدار سے شاکی ہو کر دادرسی کے لئے آپ کی خدمت میں التجا کرتے تھے چنانچہ آخری بیماری میں ربوہ اپنے ملازم بشیر سے کہہ رکھا تھا کہ میری بیماری کی وجہ سے لوگ مجھ سے پہلے کی طرح مل نہیں سکتے۔اب یہ تمہارا فرض ہوگا کہ ہر ضرورتمند کی ضرورت کی اطلاع مجھے پہنچایا کرو۔کوئی حاجتمند ہو تو اس کی بھی مجھے اطلاع دو۔کوئی شکایت کرنے والا ہو تو اُس کی بھی مجھے اطلاع دو۔اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کو تلاش کرو اور جور فقے لانے والے ہیں ان کے رقعے مجھ تک پہنچاؤ۔پھر فرمایا کہ اب میں خدا کے سامنے بری الذمہ ہو گیا ہوں اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی تو تم جوابدہ ہو گے۔آپ کی بے حد حساس طبیعت کے لئے نگران بورڈ کا بوجھ طاقت سے کہیں زیادہ تھا مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس بوجھ کے نیچے پیسا جاؤں گا۔آپ نے خدا کی خاطر اسے اٹھانے سے گریز نہیں کیا۔مجھے تو اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ آپ کی شدید اعصابی بے چینی کی اصل ذمہ دار وہ بوجھل جماعتی ذمہ داریاں تھیں جو بہر حال آپ ہی کو اٹھانی تھیں۔اس پر وفات کی قبل از وقت اطلاع اور فطری انکساری اور بڑھی ہوئی احتیاط کے نتیجہ میں یہ خوف کہ میں ان ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا نہیں کر سکا اب اپنے خدا کو کیا جواب دوں گا یہ سب امور تھے جنہوں نے آپ کو ایک شدید کرب میں مبتلا کر رکھا تھا اور آپ لا لِی وَلا عَلَی کا منظر پیش کر رہے تھے۔اسی قسم کی ایک سخت گھبراہٹ کے موقعہ پر میری ایک بہن نے سوال کیا کہ آپ تو خدا کے برگزیدہ بندے ہیں آپ موت سے کیوں ڈرتے ہیں تو آپ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ مجھے موت کی کچھ بھی پرواہ نہیں پھر یہ کہتے ہوئے رو پڑے کہ دراصل مجھ میں اپنے خدا کو حساب دینے کی طاقت نہیں۔پس یہی ایک تمنا ہے کہ وہ بے حساب بخش دے۔بعض دوسرے موقعوں پر بھی آپ نے اپنی اس شدید خواہش کا اظہار ملنے والوں سے کیا کہ دعا کرو اللہ تعالیٰ مجھے بے حساب بخش دے۔پس آؤ