تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 129 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 129

تاریخ احمدیت۔جلد 22 129 سال 1963ء کی برکت سے چاند ستاروں کی طرح درخشاں ہو چکی تھی۔ہمسایوں کا خاص خیال اور ان سے شفقت کا سلوک، اعزہ واقارب کو تحائف بھجواتے رہنا اور ہر خوشی اور غمی کے موقعہ پر انہیں یاد رکھنا، بچوں سے غیر معمولی پیار اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کرنے کا خیال، بیماروں کی عیادت اور حاجتمندوں کی حاجت روائی، کوئی ایک بات ہو تو کہوں ہر ہر بات کے ساتھ کئی کئی واقعات وابستہ ہیں۔قادیان میں ہمارا گھر آپ کی ہمسائیگی میں تھا بلکہ دروازہ سے درواز ہ ملا ہوا تھا اور جہاں تک مجھے یاد ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ کو کوئی تحفہ آیا ہو یا گھر میں کوئی پسندیدہ چیز بنی ہو اور آپ نے اُس میں سے کچھ ہمارے ہاں نہ بھجوایا ہو ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا۔کبھی ہمارے ہاں سے کوئی تحفہ جاتا تو برتن کبھی خالی واپس نہ بھیجتے گھر میں جو کچھ بھی تحفہ کے لائق پاتے کچھ نہ کچھ بھجوا دیتے بغیر تکلف کے۔بغیر اس حجاب کے کہ وہ تحفہ آئے ہوئے تحفہ سے بظاہر کم تر ہے۔مجھ سے ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہی طریق تھا۔بچوں سے محبت اور پیار کرتے تھے اور یہ ارشادتب بھی ہوتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بچوں سے پیار فرمایا کرتے تھے۔آپ اس پیار میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ہمیشہ اپنی الگ الماری میں بچوں کے لئے گولیاں، ٹافیاں،غبارے، مرمرہ، پھلیاں، آم پاپڑا اور سردیوں کے موسم میں چلغوزے اور دیگر خشک میوہ جات وغیرہ مقفل رکھتے تھے۔الماری کیا تھی گویا ایک چھوٹے بچوں کی دلچسپی کی دکان تھی۔البتہ اس دکان سے پیسوں کے نہیں بلکہ ہمیشہ محبت اور شفقت اور معصوم خوشیوں کے سودے ہوا کرتے تھے۔بچے بڑی کثرت سے عموں صاحب کو سلام کرنے جاتے اور واپسی پر صرف سلامتی کی دعا ہی نہیں بلکہ اپنی اشتہاء کی دوا بھی لے کر لوٹتے تھے۔خاندان کے بچے بھی کچھ کم نہ تھے غیر از خاندان بچوں کو بھی جب آپ کی اس شفقت کا علم ہوتا تو پُر امید نگاہوں سے جو کبھی مایوس نہیں لوٹیں۔سلام کی سعادت حاصل کرنے کو حاضر ہونے لگتے۔کبھی آپ تھکے نہیں نہ ماندہ ہوئے ہمیشہ مسکراتے ہوئے اور بعض اوقات اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں ان بچوں کی غیر معمولی عقیدت پر ایک آدھ فقرہ چست کرتے ہوئے اپنے ہاتھ سے الماری کھولتے اور کبھی خود ہی اُس بچہ کے لئے کوئی تحفہ پسند فرماتے کبھی پوچھتے کہ بتاؤ اس چیز میں سے کیا لو گے۔عموماً بچے اس سوال سے سخت گھبراتے تھے اور علموں صاحب ان کی اس اُلجھن کو بھانپتے ہوئے دونوں چیزوں میں سے کچھ نہ کچھ دے دیا کرتے تھے۔میں تو کچھ اس بناء پر کہ گھر قریب تھا اور کچھ آپ کی خاص شفقت کے زعم میں اور کچھ اس لئے