تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 126 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 126

تاریخ احمدیت۔جلد 22 126 سال 1963ء اسے اپنے گھر سے بہت بڑھ کر پایا اور یہی کیفیت اُن تمام احباب کی بھی ہوا کرتی تھی جو قادیان کے سفر اور قیام کے دوران میں خاکسار کے رفیق ہوا کرتے تھے۔۔مرور زمانہ کے ساتھ صاحبزادہ صاحب کے علم و حلم آپ کے اوصاف حمیدہ اور صفات ستودہ میں جلد جلد اضافہ ہوتا گیا اور آپ کے علم اور سرگرمیوں کے میدان وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے۔بہت جلد خاندان مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلے اور جماعت میں آپ کو ایک نمایاں اور ممتاز حیثیت حاصل ہوگئی جس کے نتیجے میں آپ کے تعلقات بھی بہت وسیع ہوتے گئے اور تمام جماعت ہی نہیں بلکہ بہت سا طبقہ غیر از جماعت احباب کا بھی آپ کے اخلاق حسنہ کا مورد ومعترف اور گرویدہ ہوتا گیا۔ان تفاصیل کا بیان آپ کے سوانح نگار کے ذمے ہے خاکسار کو یقین ہے کہ محترم جناب شیخ عبدالقادر صاحب جنہوں نے اس مقدس فرض کو اپنے ذمے لینے کا اظہار کیا ہے بہت جلد اس سے کماحقہ عہدہ برآ ہو کر جماعت اور سلسلہ کو اپنا احسان مند بنائیں گے۔خاکساراسی پر کفایت کرتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی ایک نہایت اہم خدمت کی طرف مختصر سا اشارہ کر دے۔یوں تو صاحبزادہ صاحب کی تمام زندگی ہی بنی نوع انسان، اسلام اور سلسلے کی خدمت کے لئے وقف رہی اور گونا گوں رنگ میں آپ کو اس خدمت کے مواقع بفضل اللہ میسر آتے رہے جن سے آپ نے پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہایت تندہی اور جانفشانی سے اسلام اور سلسلہ احمدیہ کے استحکام کے لئے کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے جن کا تعلیمی، تربیتی اور اخلاقی فیض ہمیشہ جاری رہے گا اور یہی آپ کی حقیقی یادگار ہوگا۔لیکن ان سب میں سے ممتاز اور اہم وہ خدمت اور وہ قربانی ہے جو آپ سے حضرت اصبح الموعود ( ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز و متعنا اللہ بطول حیاتہ ) کی بیماری کے عرصہ کے ہر لحظے نے طلب کی اور جسے آپ نے حد درجہ بے دریغی اور کمال بے نفسی سے پورا کیا اور سرانجام دیا۔یہ عرصہ تمام جماعت کے لئے اور درجہ بدرجہ خدام مخلصین کے لئے لیکن سب سے کہیں بڑھ کر اور کئی گنا زیادہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے صبر آزما اور دردناک طور پر طالب بے نفسی اور کیف راضی برضا رہا ہے۔اس تمام عرصے میں جس طور پر آپ نے اپنا جسم اور اپنی روح ، اپنے قومی اور اپنی استعدادیں، اپنے وسائل اور اپنا وقت ، اپنی امنگیں اور اپنے ارادے، اپنی صحت اور اپنی زندگی مرضی مولیٰ کے سپر داور حوالے رکھیں وہ آپ ہی کا حصہ تھا اور کسی اور سے ممکن نہ ہوتا۔198