تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 121 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 121

تاریخ احمدیت۔جلد 22 121 سال 1963ء اب اس کے خالق نے اپنی جنت اعلیٰ کے لئے پسند کر لیا۔۲۔میرے منجھلے بھائی کی گھریلو زندگی 766 196 خدا تعالیٰ کے فضل و احسان سے میرے بھائیوں کا ظاہر تو تھا ہی بہترین مگر باطن بھی پاکیزہ رہا۔میری نظر نے تمام تعلقات رشتہ اور محبت کو الگ رکھتے ہوئے جب بھی غور کیا ظاہر سے بھی بہتر ان کے دلوں کو پایا۔کوئی نفاق نہیں ، کوئی ریا نہیں ، کوئی مکاری نہیں ، نہ کسی سے بغض وحسد، نہ دنیا کے معاملات کے لئے غصہ اور انتقام کا جذبہ، ہمیشہ صاف شفاف دل والے رہے، یہی نمونہ گھر یلو زندگی میں حضرت منجھلے بھائی صاحب کا بھی ہمیشہ دیکھا اور ہمیشہ رہا۔وہ بھی بہت اچھے بھائی بہت اچھے بیٹے ، اچھے شوہر ، اچھے آقا ، اچھے عزیز ، اچھے ہمسایہ، اچھے دوست، اچھے رفیق تھے۔اچھے صلاح کار، نیک مشورہ دینے والے اور ہر ایک کا بھلا چاہنے والے تھے۔بچپن : مجھے بھی یاد نہیں کہ بہت چھوٹی عمر میں بھی کبھی کسی بھائی نے مجھے کڑوی نظر سے بھی دیکھا ہو یا لڑے جھگڑے ہوں۔بڑے بھائی ( حضرت خلیفہ اسیح الثانی) تو خیر بڑے تھے۔ان کا پیار تو ہمیشہ مجھے سب سے بڑھ کر ملا مگر میرے منجھلے بھائی چھوٹے بھائی بھی اُس عمر سے اب تک ہمیشہ شفیق اور چاہنے والے ہمدردر ہے۔میری ہوش میں پہلا نظارہ مجھلے بھائی کے بچپن کا جو مجھے بہت صاف یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہیں باہر سے تشریف لائے تھے۔گھر میں خوشی کی لہرسی دوڑ گئی۔آپ آ کر بیٹھے میں پاس بیٹھ گئی اور سب معہ حضرت اماں جان بھی بیٹھے تھے کہ ایک فراخ سینہ چوڑے منہ والا ہنس مکھ لڑ کا سرخ چوگوشیہ مخملی ٹوپی پہنے بے حد خوشی کے اظہار کے لئے حضرت مسیح موعود کے سامنے کھڑا ہو کر اچھلنے کودنے لگا یہ میرے پیارے منجھلے بھائی تھے۔حضرت اقدس مسکرا رہے ہیں دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ ” جاٹ ہے جاٹ“۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن میں تو کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔حضرت اماں جان روکتی تھی کہ اب تم ہو نہ کہا کرو تو حضرت مسیح موعودؓ فرماتے۔تم روکو نہیں اس کے منہ سے مجھے ٹو 66899 66899 کہنا پیارا لگتا ہے۔پھر ذرا بڑے ہوئے تو خود ہی تو کہنا تو چھوڑ دیا مگر ایسا حجاب رہا کہ تم آپ بھی نہ کہا۔یونہی بات کر لیتے مگر تو کی جگہ کچھ نہ کہتے۔طبیعت میں سنجیدگی اور حجاب بہت جلدی پیدا ہو گیا تھا۔بہت