تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 117 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 117

تاریخ احمدیت۔جلد 22 117 سال 1963ء بچپن سے آپ کو ودیعت کی گئی تھی خود فرماتے ہیں:۔میں نہیں جانتا کہ اس کی وجہ کیا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مجھے بچپن سے حدیث کے علم کے ساتھ ایک قسم کا فطری لگاؤ رہا ہے اور جب کبھی بھی میں کوئی حدیث پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں گو یا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک ہو کر حضور کے مقدس کلام سے مشرف ہو رہا ہوں۔میر اتخیل مجھے آج سے چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی مسجد حرام اور مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی اور حرمین شریفین کی گلیوں اور عرب کے صحرائی رستوں میں پہنچا کر رسول اکرم ﷺ کی روحانی صحبت اور معنوی رفاقت کا لطف عطا کر دیتا ہے۔اور پھر میں کچھ وقت کے لئے دنیا سے کھویا جا کر اس فضا میں سانس لینے لگتا ہوں جس میں ہمارے محبوب آقا نے اپنی خدادا د نبوت کے تئیس مبارک سال گزارے۔لیکن غالباً جس حدیث نے میرے دل اور دماغ پر سب سے زیادہ گہرا اور سب سے زیادہ وسیع اثر پیدا کیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایسے ارشاد سے تعلق رکھتی ہے جس میں فقہ اور علم کلام کا تو کوئی عنصر شامل نہیں۔مگر میرے ذوق میں وہ اسلام اور روحانیت کی جان ہے روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ ایک غریب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس کے ماتھے پر عبادت اور ریاضت کا تو کوئی خاص نشان نہیں تھا مگر اس کے دل میں محبتِ رسول کی ایک چنگاری تھی جس نے اس کے سینہ میں ایک مقدس چراغ روشن کر رکھا تھا۔اس نے اس کی دائمی تڑپ کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ 'یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی؟ آپ نے فرمایا ”تم قیامت کا پوچھتے ہو کیا اس کے لئے تم نے کوئی تیاری بھی کی ہے اس نے دھڑکتے ہوئے دل اور کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے عرض کیا۔”میرے آقا! نماز روزے کی تو کوئی خاص تیاری نہیں لیکن میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت ہے۔آپ نے اسے شفقت کی نظر سے دیکھا اور فرمایا۔المرء مع من احب یعنی پھر تسلی رکھو کہ خدائے و دود کی خاطر محبت کرنے والے شخص کو اس کے محبوب سے جدا نہیں کرے گا۔“ یہ حدیث میں نے بچپن کے زمانہ میں پڑھی تھی۔لیکن آج تک جو میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں میرے آقا کے یہ مبارک الفاظ قطب ستارے کی طرح میری آنکھوں کے سامنے رہے ہیں۔اور میں نے ہمیشہ یوں محسوس کیا کہ گویا میں نے ہی رسولِ خدا سے یہ سوال کیا تھا اور آپ نے مجھے ہی یہ جواب عطا فرمایا۔اور اس کے بعد میں اس نکتہ کو کبھی نہیں بھولا کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ سب برحق