تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد 22 110 سال 1963ء اخبار ” بھیم پتریکا جالندھر کا نوٹ مسٹر ایل۔آر۔بالی صاحب ایڈیٹر اخبار بھیم پتریکا جالندھرنے ” جناب مرزا بشیر احمد صاحب“ کے زیر عنوان لکھا۔احمدی جماعت کے ممتاز رہنما اور ٹھکرائی ہوئی خلق کے عظیم خدمت گزار مرزا بشیر احمد صاحب ایک لمبی علالت کے بعد چند دن ہوئے پاکستان میں رحلت فرما گئے۔مرزا بشیر احمد صاحب علم وادب، بلند ترین انسانی قدروں کا مجسمہ تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی بنی نوع انسان کی بہتری و بهبودی کے لئے صرف کی۔اچھوت پکارے جانے والے کروڑوں دبے کچلوں کو سماجی غلامی سے نجات دلانے کے لئے جو قابل داد خدمت انہوں نے اپنے حیران کن طریقوں سے سرانجام دی۔اس کے لئے انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد کیا جاتا رہے گا۔قادیان پنجاب کے ضلع گورداسپور کا وہ نامور قصبہ ہے جہاں احمدی تحریک پیدا ہوئی پھولی اور پھلی۔ہندوستان کی تقسیم کے زہریلے اثرات سے مفلوج ہو چکے بہت سے ہندوستانیوں کو اب شاید اتنا بھی علم نہ ہوگا کہ جناب بشیر احمد صاحب کا وطن بھی پنجاب ہی تھا۔وطن ہی نہیں پنجاب خاص طور پر قادیان ان کا دارالعلوم بھی تھا۔احمدی تحریک کا جنم ستھان ہونے کے ناطے اُن کے لئے قادیان تیر تھستان بھی۔مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات سے احمدیوں نے اپنا قمر الانبیاء ( نبیوں کا چاند ) کھو دیا۔ہندوستان خاص طور پر پنجاب نے اپنا ایک بہادر سپوت کھو دیا۔جو سچائی، نیکی اور بے خوفی کی مشعل اٹھائے ہر ظلم و استبداد کے خلاف سینہ تان کر لڑا کرتا تھا اور اچھوتوں نے اپنا ایک ایسا محسن کھو دیا۔جو برسوں ان کی ترقی کی خاطر جد و جہد کرتا رہا۔ادارہ بھیم پتر یکا مرزا صاحب کی اس بے وقت وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتا ہے اور مرزا صاحب کے دیگر مداحوں کے غم میں شریک ہوتا ہے۔سلسلہ کے جرائد ورسائل کے خصوصی نمبر حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدا نما شخصیت کے فضائل وشمائل اور عظیم خدمات کا ذکر خیر ہمیشہ جاری رکھنے کے لئے سلسلہ کے جرائد و رسائل مثلاً الفضل شماره ۲۹ / اکتوبر ۱۹۶۳ء ، مصباح ماه دسمبر ۱۹۶۳ء ، الفرقان اپریل، مئی ۱۹۶۴ء اور مسلم حیرلڈ لندن، نے خصوصی نمبر شائع کئے جو نہایت ایمان افروز معلومات پر مشتمل تھے۔اس کے علاوہ مکرم شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگر مل )