تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 109 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 109

تاریخ احمدیت۔جلد 22 اخبار ”پیغام صلح لا ہور کا نوٹ 109 سال 1963ء اخبار ”پیغام صلح لاہور نے ۴ ستمبر ۱۹۶۳ء کے شمارہ میں حسب ذیل نوٹ سپر دا شاعت کیا۔یہ خبر جماعت کے تمام حلقوں میں نہایت رنج و افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ثانی جناب مرزا بشیر احمد صاحب کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد ۲ ستمبر ۱۹۶۳ء کو میوہسپتال لاہور میں وفات پاگئے ( یہ غلط نہی ہے وفات گھر پر ہوئی تھی )۔انا للہ وانا اليه راجعون، ان کا جنازہ ربوہ لے جایا گیا جہاں دوسرے دن سُپر دخاک کیا گیا۔مرزا بشیر احمد صاحب (اختلاف عقائد سے قطع نظر ) بہت سی خوبیوں کے انسان تھے۔وہ ایم۔اے ہونے کے علاوہ علوم دینیہ سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور سیرت نبوی اور دیگر مسائل پر عمدہ کتابیں، انہوں نے تصنیف کی ہیں۔اس کے علاوہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ربوہ کی موجودہ بیماری میں جماعت کو سنبھالنے اور نظام جماعت کو برقرار رکھنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔چند سال پیشتر صدر انجمن احمدیہ کے اوپر ایک نگران بورڈ بنایا گیا تھا جس کے صدر میاں بشیر احمد صاحب مقرر کئے گئے۔غرض جماعت ربوہ میں ان کی حیثیت ایک طرح نائب خلیفہ کی تھی ، اور اس جماعت کو ان کی وفات سے بہت بڑا نقصان پہنچا ہے ، جس کی تلافی بظاہر حالات ناممکن نظر آتی ہے۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ہمیں اُن کے فرزند اور ان کی بیگم صاحبہ اور دیگر لواحقین سے دلی ہمدردی ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔احباب سے جنازہ غائبانہ کی درخواست ہے۔“ تعزیت کا تار ( از طرف غیر مبایعین ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کی خبر موصول ہونے پر سیکرٹری صاحب احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کی طرف سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفتہ المسیح الثانی کے نام حسب ذیل تعزیتی تار بھیجا گیا۔ممبران احمد یہ انجمن اشاعت اسلام لاہور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند ثانی مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات پر جو ایک اعلیٰ درجہ کے مصنف اور مشہور سکالر تھے۔اظہار تعزیت کرتے ہیں۔دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی رُوح کو امن و اطمینان عطا فرمائے۔اس تار کی نقول حضرت بیگم مرزا بشیر احمد صاحب کو (جو حضرت مولانا غلام حسن صاحب پشاوری کی صاحبزادی ہیں ) اور آپ کے فرزند مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو بھی بھیجی گئیں۔