تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 105 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 105

تاریخ احمدیت۔جلد 22 105 سال 1963ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ناظر و وکلاء صاحبان امرائے اضلاع صدر صاحبان محلہ جات اور انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کو ہی جنازہ کے ہمراہ چار دیواری کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔باقی احباب چار دیواری سے باہر بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں کھڑے دعائیں کرتے اور درود شریف پڑھتے رہے۔تابوت کو قبر کے اندر اتارنے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے صاحبزادگان محترم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا حمید احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرز امنیر احمد صاحب اور محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب کے علاوہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب، محترم صاحبزاده مرزا حفیظ احمد صاحب، محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور بعض دوسرے صاحبزادگان نے حصہ لیا۔بعد ازاں چار دیواری کے اندر موجود احباب نے قبر کو مٹی دی اور قبر تیار ہونے پر (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے ایک پُر سوز اور رقت آمیز دعا کرائی۔جس میں جملہ احباب شریک ہوئے۔حضرت میاں صاحب کے جسد اطہر کو حضرت اماں جان نوراللہ مرقدھا کے قدموں کی جانب چار دیواری کے جنوبی قطعہ میں حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے پہلو میں دفن کیا گیا۔اس طرح ہزار ہا محزون و غمناک قلوب، اشکبار آنکھوں اور سوز و گداز سے معمور دردمندانہ دعاؤں کے درمیان اُس مقدس و با برکت وجود کا جسد اطہر جو عظیم الشان خدائی نشانوں اور آسمانی بشارتوں کا مظہر ہونے کے باعث جماعت کے ایک ستون کی حیثیت رکھتا تھا اور ابتلاؤں کے اوقات میں احباب جماعت کے لئے ایک ڈھارس کا کام دیتا تھا اور قدم قدم پر کمال دانشمندی اور غیر معمولی فراست کی بدولت به تائید و توفیق الہی ان کی رہنمائی فرما تا تھا۔سپردخاک کر دیا گیا۔حضرت مصلح موعود کا تعزیتی مکتوب 179 حضرت قمر الانبیاء کے المناک حادثہ ارتحال پر حضرت مصلح موعود کی خدمت اقدس میں مخلصین جماعت کی طرف سے بکثرت تعزیتی تار اور خطوط موصول ہوئے جن کے جواب میں حضور نے حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا :-