تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 104
تاریخ احمدیت۔جلد 22 104 سال 1963ء جنازہ اٹھانے اور کندھا دینے کا منظر آخری زیارت کا سلسلہ مجبوراً بند کرنے کے بعد جنازہ حضرت میاں صاحب کی کوٹھی سے ساڑھے پانچ بجے شام اٹھایا گیا۔کوٹھی کے احاطہ میں جنازہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد، صحابہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام ناظر و وکلاء صاحبان امراء اضلاع صدر صاحبان محلہ جات مجلس انصار اللہ مرکز یہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی مجالس عاملہ کے ارکان نے اپنے کندھوں پر اٹھایا۔کوٹھی کے باہر سڑک کے ساتھ ساتھ بہشتی مقبرہ تک سڑک کے دونوں طرف احباب جماعت قطار میں باندھے کھڑے تھے۔جنازہ جب کوٹھی سے باہر سڑک پر پہنچا تو تمام دیگر احباب کو کندھا دینے کی اجازت دی گئی۔ہر چند کہ اس خیال سے کہ سب دوستوں کو کندھا دینے کا موقع مل سکے جنازہ کی چار پائی کے ساتھ دونوں طرف بہت لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے اور جنازہ کے اردگرد خدام کی ڈیوٹیاں مقرر کر دی گئی تھیں کہ وہ بسہولت کندھا دینے میں لوگوں کی مدد کر سکیں پھر بھی احباب کا ہجوم اس قد رتھا اور کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کے لئے وہ اس قدر بیتاب تھے کہ نظام پورے طور پر برقرار نہ رہ سکا۔لوگ کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کی خاطر ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے اس طرح ہزار ہا غمناک مخلصین کے کندھوں پر جنازہ چھ بجے شام کے قریب بہشتی مقبرہ پہنچا۔نماز جنازه بہشتی مقبرہ کے وسیع احاطہ میں (حضرت) مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدرانجمن احمدیہ نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں قریباً پندرہ ہزار احباب شریک ہوئے۔بہت سے احباب نے جولا ریوں کے ذریعہ اسی وقت ربوہ پہنچے تھے اڈہ سے سیدھے بہشتی مقبرہ پہنچ کر نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔نماز میں احباب پر رقت کا ایک ایسا عالم طاری تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں سفیدی سے قبلہ رخ خطوط لگا دی گئی تھیں۔لیکن یہ انتظام ناکافی ثابت ہوا اور صفوں کی تعداد اندازہ سے کہیں زیادہ ہوگئی اور بعد میں آنے والے احباب نماز میں شریک ہونے کی خاطر احاطہ سے باہر ہی صفیں بناتے چلے گئے۔تدفین اور اجتماعی دعا نماز جنازہ کے بعد نعش مبارک مزار حضرت اماں جاں کی چاردیواری کے اندر لے جائی گئی۔چار دیواری کا احاطہ محدود ہونے کے باعث خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ صحابہ