تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد 22 101 سال 1963ء حضرت صاحبزادہ صاحب نے احباب کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے سب کو حضرت قمر الا نبیاء کے جسد اطہر کی زیارت کرائی۔لاہور سے سوگوار قافلہ کی سُوئے ربوہ روانگی رات سوا دس بجے آپ کی نعش مبارک ایک قافلہ کے جلو میں ایمبولینس کار کے ذریعہ لاہور سے ربوہ کے لئے روانہ ہوئی۔غمزدوں کا یہ قافلہ سات کاروں، دو بسوں اور دوایمبولینس پر مشتمل تھا۔ایک بس جس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواتین مبارکہ تھیں سب سے پہلے حرکت میں آئی۔قافلے کے باقی حصے ایک ایک کر کے کوٹھی سے نکل کر گیارہ بجے شاہدرہ پہنچے سب سے آگے حضرت میاں صاحب والی ایمبولینس تھی جس میں سید حضرت اللہ پاشا صاحب اور محترم میجر (بعد ازاں برگیڈیئر) وقیع الزمان صاحب تھے اور سب سے آخر میں لاہور کے ایثار پیشہ احمدی جوانوں کی بس تھی جس میں شیخ ریاض محمود صاحب، اخوند فیاض احمد صاحب، ملک منور احمد صاحب جاوید اور دیگر خدام سوار تھے۔یہ قافلہ ساری رات بارش ، ہوا کے طوفان اور کالے اور مہیب بادلوں میں چلتا رہا۔رستہ میں دوکار میں خراب ہو گئیں۔قافلہ تین بجے کے قریب چینوٹ سے آگے جو نہی چناب کے پل پر پہنچا پہلی گاڑی جس میں حضرت میاں صاحب ابدی نیند سو ر ہے تھے خراب ہو گئی جس کو ٹھیک کرنے میں دیر لگ گئی جس کے بعد بالآخر ساڑھے تین بجے شب کے قریب یہ قافلہ خدا کے مسیح کی مقدس امانت لے کر ربوہ کی حدود میں داخل ہوا۔اس وقت اہل ربوہ ایک قیامت سے دو چار تھے اور گھر گھر سوگ کی گہری کیفیات سے دو چار تھا۔چنانچہ جب آپ کا جسد خا کی ربوہ پہنچا تو ہزاروں احباب کی بے ساختہ چیچنیں نکل گئیں اور آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ربوہ کے اڈہ سے البشری کوٹھی تک ہر طرف خلقت ہی خلقت نظر آتی تھی۔غسل اور تجہیز و تکفین قافلہ پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ۳ ستمبر چار بجے صبح نعش مبارک کو غسل دیا گیا نسل خالد احمدیت محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشاد، حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی اور محترم حکیم عبد اللطیف صاحب شاہد ( جنہیں گزشتہ سال حضرت میاں صاحب کی طرف سے حج بدل کا