تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 100
تاریخ احمدیت۔جلد 22 100 سال 1963ء 169 شام کو بخار کی شدت سے حضرت میاں صاحب پر غنودگی طاری تھی۔ڈاکٹروں کی ایک پوری ٹیم صلاح و مشورہ میں مصروف ہو گئی۔ملک منور احمد صاحب جاوید کا بیان ہے کہ انہیں دومرتبہ حضرت میاں صاحب کو دیکھنے کا موقعہ ملا۔دیکھا کہ غنودگی کی حالت میں فرمارہے تھے اللہ تیرا شکر ہے۔اللہ تیرا شکر ہے“۔۲ ستمبر کا سارا دن اسی عالم میں گذرا اور بیماری تشویشناک صورت اختیار کر گئی۔شام کے وقت بہت سے احباب کوٹھی نمبر ۲۳ ریس کورس کے احاطہ میں نماز مغرب کے لئے جمع تھے۔ہر شخص کرب و اضطراب میں ڈوبا ہوا تھا۔کوٹھی کے لان میں مغرب کی اذان ختم ہوتے ہی عین اس وقت جبکہ نماز شروع ہو رہی تھی حضرت قمر الانبیاء کی طبیعت یکا یک متغیر ہو گئی، سانس رک گیا، دو ایک کوششیں مصنوعی تنفس کی کی گئیں مگر بے سود، جس بلاوے کا آپ کئی ماہ سے انتظار کر رہے تھے۔وہ آن پہنچا اور آپ کی روح مقدس 4 بج کر ۴۸ منٹ پر قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔اور آپ چشم زدن میں اپنے آسمانی مولا کی آغوش رحمت میں پہنچ گئے۔اس طرح نبیوں کا چاند جو ستر برس تک اس جہان کے افق پر ضیا پاشی کرتا رہا۔یکا یک غروب ہو کر اگلی دنیا میں طلوع ہو گیا۔انا للہ و انا اليه راجعون۔صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب نماز کے معا بعد دوڑ کر اندر گئے۔اپنے مقدس باپ اور مسیح محمدی کے لخت جگر کا بازو اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے بوسہ دیا آپ اسی کیفیت میں چند لمحوں تک دعائیں کرتے رہے۔ازاں بعد (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور دیگر افراد خاندان مسیح موعود آپ کے کمرہ میں پہنچے۔اس حادثہ کی اطلاع اسی وقت بذریعہ ٹیلی فون ربوہ میں دے دی گئی۔اگلے دن ریڈیو پاکستان 171 170 اور اخبارات نے پورے ملک میں یہ خبر پہنچادی۔لاہور میں وفات کی خبر آن واحد میں پھیل گئی اور لاہور کے ہر حصے اور علاقے سے غمزدہ اور سوگوار احمدی دیوانہ وار کوٹھی میں پہنچنے لگے۔سارا صحن بھر گیا۔سڑک پر ٹریفک کا کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔اس موقعہ پر حضرت قمر الانبیاء کے صاحبزادگان اور دوسرے افراد خاندان مسیح موعود نے صبر وتحمل کا بے مثال نمونہ دکھلایا اور غم سے نڈھال ہونے کے باوجود آنے والوں کو تسلی دیتے رہے۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمایا ”ہمارا ازلی ابدی خدا بے عیب ہے۔اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا ہم اس کی رضا پر راضی ہیں“۔