تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 96
تاریخ احمدیت۔جلد 22 96 سال 1963ء ہونے کے باعث اپنے اندر شہادت کا رنگ رکھتی ہے اور آپ کی رویاء و کشوف کے عین مطابق ظہور میں آنے کی وجہ سے خدا کی ہستی کا ایک نشان ہے۔ام حضرت صاحبزادہ صاحب ایک برگزیدہ ہستی اور مقدس وجود تھے اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود کے حقیقی دست و بازو تھے۔آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک منٹ دینِ حق کے لئے وقف تھا اور آپ عُسر ویسر، سفر و حضر اور صحت و علالت غرض کہ ہر صورت میں خدمت دین میں سرشار رہتے تھے۔۱۹۵۳ء کے قیامت خیز ایام میں آپ پر دل کی بیماری کا شدید اور خطرناک حملہ ہوا اور اگر چہ آپ کئی ہفتے صاحب فراش رہنے کے بعد بظاہر صحت یاب ہو گئے مگر دل کی کیفیت پوری طرح بحال نہ ہوئی۔اس کے علاوہ نقرس Gout) کی بہت پرانی تکلیف تھی جس کے بعد ۷۔۸ سال سے ذیا بیطیس کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا تھا۔دل کی تکلیف سے آپ کو کبھی کبھی تنفس کی تنگی یا دل کے درد کا دورہ ہو جاتا تھا جو دینی کاموں کے ہجوم اور جماعتی تفکرات کا رد عمل ہوتا تھا۔مگر آپ برابر اپنے خدا سے کئے ہوئے عہد کو نبھائے چلے جارہے تھے اور دیوانہ وار سلسلہ کے کاموں میں سرگرم عمل رہتے تھے۔آپ کی مرض الموت یعنی آخری بیماری کا آغاز جون ۱۹۶۳ء میں ہوا جبکہ ربوہ میں آپ نے نگران بورڈ کے ایک اجلاس کی صدارت فرمائی۔طبیعت پہلے سے ناساز اور مضمحل تھی لیکن آپ نے حسب معمول دین کو مقدم کرنے کے لئے پاک جذبہ سے اجلاس میں شرکت فرمائی اور کمزوری طبع کے با وجود کئی گھنٹے تک اجلاس کو جاری رکھا اور بہت سے جمع شدہ امور کو نپٹانے میں اپنی پوری طاقت وقوت صرف کر دی مگر یہی محنت و کاوش بالآخر جان لیوا ثابت ہوئی۔انتڑیوں اور معدے میں سوزش اور 165 گبھراہٹ کے آثار نمایاں ہو گئے۔پراسٹیٹ بڑھ گئے اور کمزوری انتہا ء تک پہنچ گئی۔جب یہ تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ ڈاکٹری مشورہ کے مطابق ۲۸ جون ۱۹۶۳ء کو بغرض علاج ربوہ سے لاہور تشریف لائے۔یکم جولائی کی شام کو ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے جو تین سرجنوں اور تین فزیشنوں ) کرنل ملک صاحب، کرنل عطاء اللہ صاحب، ڈاکٹر مسعود احمد صاحب سرجن میوہسپتال، کرنل محمود الحسن صاحب ملٹری ہسپتال، ڈاکٹر محمد اختر خاں صاحب فزیشن میوہسپتال، ڈاکٹر محمد رشید چودھری صاحب، ڈاکٹر محمد یعقوب خاں صاحب) پر مشتمل تھا۔آپ کا طبی معائنہ کیا۔معائنہ کے دوران آپ کو ڈھائی گھنٹے تک میز پر لیٹے رہنا پڑا جس سے آپ کو کوفت ہوئی۔