تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 95 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 95

تاریخ احمدیت۔جلد 22 95 سال 1963ء ہی نہیں چنانچہ اگر تحریک احمدیت کے آغاز سے اس وقت تک کی ان تمام خدمات کا جائزہ لیں جواس نے خالص اخلاقی نقطہ نظر سے مفاد عامہ کے لئے انجام دی ہیں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں۔انہوں نے مدارس قائم کئے۔شفا خانے تعمیر کرائے ، انہوں نے بلا تفریق مذہب و ملت طلبہ کے وظائف مقرر کئے۔غرباء ومساکین کا مفت علاج کیا۔یتامی کی کفالت کی۔بیواؤں کے دکھ درد میں شریک ہوئے اور ان کی یہ گرانقدر خدمات وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہیں۔اب سے شاید دو تین سال قبل کی بات ہے جیسا کہ فضل عمر ہسپتال (ڈسپنسری ) کراچی کی عمارت دیکھنے کا موقع مجھے ملا تھا اور یہ معلوم کر کے حیران رہ گیا جب مجھے بتایا گیا کہ یہ تعمیر محض یہاں کے احمدی نو جوانوں کے ہاتھوں وجود میں آئی ہے تو معا میرا ذہن قادیان کے اس مجاہد اعظم کی طرف منتقل ہوا جس کے فیضانِ تعلیم نے ایثار و قربانی اور سعی و عمل کا یہ جذبہ اپنے متبعین میں پیدا کیا۔اور اس خیر جاریہ کی تشکیل کے لئے اتنے جاں نثار و فدائی پیدا کر دئیے۔پھر میں یہاں سے چلا گیا لیکن اس کا اتنا گہرا اثر دل پر لے گیا کہ اس کے بعد جب کبھی کسی نے احمدی تحریک کا ذکر چھیڑا تو میں نے اس کی قوت عمل کے ثبوت میں ہمیشہ اپنے اس نئے تجربہ کو پیش کیا۔علامہ نیاز فتچوری اس ولولہ انگیز تقریر کے بعد احباب جماعت کے ساتھ لائبریری میں تشریف لے گئے اور لائبریری کی ممبر شپ کا پہلا کارڈ پر کیا۔آپ کے بعد شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت کراچی اور قائد خدام الاحمدیہ کراچی اور دیگر احباب نے رکنیت قبول کی۔اس طرح لائبریری کا حوصلہ افزاء ماحول میں آغاز ہوا۔اس لائبریری میں اس وقت دو ہزار سے زائد کتب موجود تھیں جو مذہبی، ادبی، تاریخی ، معاشی اور فنی مضامین پر مشتمل تھیں۔لائبریری کے ساتھ دارالمطالعہ بھی تھا جس میں سلسلہ کے اخبارات ورسائل کے علاوہ دیگر اخبارات اور ادبی رسائل بھی موجود تھے۔قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا وصال (سوانح اور سیرت و شمائل ) اس سال کا نہایت درجہ روح فرسا اور انتہائی الم انگیز واقعہ، سلطان القلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نامور اور صاحب قلم فرزند اور خدائی نشانات کے مظہر قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے کی وفات حسرت آیات ہے جو ایک عظیم الشان علمی و قلمی جہاد کے نتیجہ میں واقع