تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 650
تاریخ احمدیت 650 جلد 21 ”انہیں بڑی بڑی تنخواہیں چاہئیں۔بڑی بڑی موٹر کار میں اور بڑے بڑے بنگلے وہ مانگتے ہیں۔اور ہر ایک قسم کی راحت و آسائش کے طلب گار ہیں۔“ اور اپنے بیان کو ختم کرتے ہوئے کہا:۔Wapi wataweza kazi hii wao? وہ ان علاقوں میں تبلیغ اسلام کا کام کہاں کر سکتے ہیں؟ یہ ان کے بس کی بات نہیں ! ! اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے علی وجہ البصیرت یہ کہتا ہوں کہ مودودیوں کے بس کی بھی یہ بات نہیں۔معزز افریقن مسلمانوں کا اعتراف آنریبل عبد اللہ فونڈ یکیر اجو حکومت ٹا نگانیکا میں پہلے وزیر انصاف اور وزیر ز مین رہ چکے ہیں آج کل ایک اہم سرکاری کارپوریشن کے چیئر مین ہیں۔ٹانگا نیکا پارلیمنٹ کے ممبر ہیں اور اپنے علاقہ کے چیف ابن چیف اور ایک سمجھدار مسلمان نوجوان ہیں۔گذشتہ چھپیں ستائیس برس سے وہ جماعت احمدیہ کی تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں مساعی کو خود دیکھ رہے ہیں اور ان کے نتائج کومحسوس کر رہے ہیں اگر جماعت احمدیہ کا منظم ادارہ تبلیغ اسلام کے کام میں مشرقی افریقہ میں مشغول نہ ہوتا تو یہ اثرات مرتب نہ ہو سکتے تھے اور نہ ہی وہاں کے لیڈر اس قسم کی تعریف و توصیف اور حقائق پر مشتمل شکر گزاری کے جذبات کا اظہار کرتے۔حال ہی میں جنوبی افریقہ کے مشہور شہر جو ہنس برگ کے رہنے والے اور علمی شغف رکھنے والے اور اسلام کی تبلیغ کا خاص در در کھنے والے دوست مسٹرالیں۔کے جمال نے اپنے تاثرات کا اظہار ایک خط میں کیا ہے جو نیروبی کے انگریزی اخبار ایسٹ افریقن ٹائمز میں شائع ہوا ہے۔اس خط میں احمد یہ جماعت کی تبلیغی جد و جہد کا دل کھول کر قدردانی کے جذبات سے اعتراف کرتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ The spread of Islam in East and West Africa is solely due to the unwavering efforts of the Ahmadies۔No Sunni Alim can claim this honour۔" مشرقی افریقہ میں تبلیغ اسلام از مولانا شیخ مبارک احمد صاحب صفحہ 16 تا 18 ، 28 تا30 ) 29 اپریل 1962ء کو نامدھاری سکھوں کے گورو جگجیت سنگھ جی اپنے بھائی کے ہمراہ تین ہفتہ کے دورہ پر ہندوستان سے مشرقی افریقہ تشریف لائے۔مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل مبلغ یوگنڈا اور مکرم کبیر الدین صاحب نے ائیر پورٹ پر انکا استقبال کیا۔یکم مئی کو جماعت احمد یہ نیروبی نے گور و صاحب کے