تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 600 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 600

تاریخ احمدیت 600 امروہہ کے رہنے والے تھے اور تقسیم ملک کے بعد قادیان کی آبادی کے سلسلہ میں اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے اور پھر کئی سال تک بطور انسپکٹر بیت المال خدمت سلسلہ بجالاتے رہے۔باوجود پیرانہ سالی کے بہت محنتی اور خوش مزاج واقع ہوئے تھے۔- محترم عبد القادر صدیقی صاحب حیدر آباد دکن 259 جلد 21 ( وفات 15 ستمبر 1962ء) آپ کے فرزند جناب محمد عبد الماجد صدیقی کے قلم سے روز نامہ الفضل 21 اپریل 1990ء صفحہ 6-7 میں شائع ہو چکے ہیں جن کا خلاصہ آپ ہی کے الفاظ میں یہ ہے۔میرے والد محترم محمد عبد القادر صدیقی صاحب آف حیدر آباد دکن 1896ء میں قصبہ نارائن پیٹھ میں پیدا ہوئے۔میرے دادا جان مکرم و محترم محمد عبد الرحمن صدیقی صاحب ایک اہل علم، مذہبی اور اپنے علاقہ کے مشہور عالم دین اور پارسا انسان تھے۔میرے والد محترم کو بھی بچپن سے ہی دین سے گہرا لگاؤ تھا وہ بھی اپنے بڑے بھائی صاحب کی معیت میں بزرگوارم مکرم و محترم میر محمد سعید صاحب کی محفلوں میں شرکت کرتے رہے۔جس کے نتیجہ میں وہ بھی آغوش احمدیت میں آگئے۔میرے نانا جان عبدالکریم صاحب جو حیدر آباد دکن کی جماعت کے اولین اراکین میں سے تھے اور مکرم میر محمد سعید صاحب کی محفلوں میں باقاعدگی سے شریک ہوا کرتے تھے۔میرے والد صاحب کو بھی وہیں سے جانتے تھے کہ وہ ایک تقوی شعار اور دین کا شغف رکھنے والے نو جوان تھے۔میر صاحب محترم سے صلاح اور مشورے کے بعد میرے نانا جان نے اپنی بڑی صاحبزادی کا نکاح میرے والد صاحب سے کر دیا۔اس وقت والد صاحب تلاش معاش میں مصروف تھے۔آخر کار انہیں محکمہ علاج حیوانات کی نظامت میں ملازمت مل گئی۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے رات میں اخبارات میں انگریزی خبروں کے ترجمہ کا کام بھی شروع کیا۔کچھ عرصہ بعد انہوں نے وکالت کی تعلیم شروع کی اور اس کے امتحانات کو بھی عمدہ طریق پر پاس کیا۔ملازمت سے قبل ہی انہوں نے لڑکوں کو پڑھانا شروع کیا تھا جو کافی عرصہ تک اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ان کے شاگردوں میں چند طلباء حیدر آباد دکن کے وزراء کے لڑکے بھی تھے۔ان کی ان مصروفیات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا نہایت آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں محنت کے کتنے عادی تھے اور تعلیم اور تدریس سے کتنا گہرا لگاؤ تھا۔اسی طرح دین کا شغف بھی اتنے ہی عروج پر تھا۔انہیں قادیان جیسا ماحول ملا جس نے ان کی