تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 592
تاریخ احمدیت 592 جلد 21 کی کوشش کرتے رہے۔آپ کو اپنی زندگی میں ایک عظیم سانحہ سے دو چار ہونا پڑا۔یعنی آپ کا اکلوتا فرزند۔کہ وہی آپ کی واحد اولاد تھی ، خواجہ محمد عبد اللہ صاحب فاضل جنہوں نے قادیان میں تعلیم حاصل کی تھی اور جموں کے سری رنبیر سنگھ ہائی اسکول میں عربی مدرس تھے۔47ء کے فرقہ وارانہ فساد میں شہید ہو گئے۔لیکن حضرت مولوی صاحب نے اسی پر عمل کیا جو قرآن کریم نے فرمایا یعنی آپ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر صبر کے ساتھ خاموش ہو گئے گوشدید صدمہ کے باعث شفقت پدری کے تقاضا نے آپ سے آنسو بھی بہائے۔اور دیکھا کہ اکثر تہجد پڑھتے وقت سجدہ گاہ تر ہوتی تھی۔آپ کا ہر لحہ ذکر الہی میں گذرتا تھا۔آپ کی دیانت وامانت بھی مسلم تھی۔اسی لئے گاؤں کے لوگوں کو آپ کی بزرگی سے عقیدت تھی۔۔۔۔حضرت مولوی صاحب اپنی تمام عمر نہ صرف خود احمدیت کے اصولوں پر محبت اور خلوص سے گامزن رہے بلکہ گاؤں اور علاقہ بھر کے احمدیوں کو ان اصولوں پر چلانے کی کوشش کرتے رہے۔آپ کی طبیعت میں غصہ نہ تھا لیکن کسی کی بے راہ روی کو دیکھ کر اور اسے سمجھاتے وقت آپ کا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔خطبات جمعہ وغیرہ میں قیامت کے روز کا ذکر اس طرح کرتے تھے کہ خود بھی روتے تھے اور سامعین کو بھی رلاتے تھے۔آپ کی شخصیت زہد و تقویٰ کی وجہ سے اتنی محبوب تھی کہ باوجود اس کے کہ آپ چوبیس گھنٹوں گاؤں میں موجود رہتے تھے لوگ آپ کی دید کے مشتاق رہتے اور شمع اور پروانوں کا سا عالم ہوتا۔وعظ و تقریر میں آپ کو خاص ملکہ تھا قرآن کریم کی چند آیات تلاوت کر کے مثالوں اور واقعات کے ساتھ ان کی تشریح کرتے تھے۔جو بڑی دلپذیر ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں لوگ کسی اور کے وعظ کو اہمیت نہ دیتے تھے۔آپ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رفیق تھے اور ساتھ ہی علم و تقویٰ کے حامل تھے۔اس لئے آپ کی نصائح موثر بھی ہوتی تھیں اور کارگر بھی۔بچپن سے آپ کی طبیعت میں نیکی اور سادگی تھی۔اس سلسلہ میں بڑے بزرگوں سے جو چند واقعات سنے ہیں ان کا ذکر کر دیتا ہوں بچپن کی عمر عام طور پر کھیل کود کی عمر ہوتی ہے لیکن آپ بچوں سے الگ تھلگ رہتے تھے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچے آپ کو اپنی شرارتوں کا نشانہ بناتے۔آپ نے اپنے بچپن ہی میں مروجہ ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی کی حاصل کرلی تھی۔یعنی کر یما۔نام حق گلستان بوستان اور قرآن شریف حدیث فقہ وغیرہ۔اس کے بعد آپ نے درزی کا کام سیکھا۔لیکن جب آسنور کے سکول میں ایک عربی دان مدرس کی ضرورت پیش آئی تو کشمیر سر کار نے آپ کی خدمات حاصل کر لیں اور اس سے نہ صرف