تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 568 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 568

تاریخ احمدیت 568 جلد 21 وو بانی نے اپنے آقا و مولا کے نام پر اسی کے دین کی اشاعت کے لئے یکجا کر کے۔۔جامع المتفرقین “ کا خطاب حاصل کر لیا ہے۔اس بے آب و گیاہ زمین کے بھی عجیب بھاگ جاگے ہیں۔سرکاری کاغذات میں یہ صدیوں سے بنجر قدیم اور بے آب و گیاہ چلی آرہی تھی۔لیکن آج اس کے سینے پر ستر اسی ہزار مہمان ٹھہرے ہوئے تھے جو اس کڑاکے کی سردی میں اس کلر زدہ زمین پر صرف اس لئے اپنے آرام و آسائش کو حج کر آئے تھے کہ خدائے قدوس کے توحید کے ترانے گائیں اور اس کی عظمت کے راگ الا ہیں۔یہاں نہ کوئی ہوٹل نہ کوئی سینما ہے نہ تماشا گاہ ہے نہ کوئی ریس کورس ہے اور نہ کوئی تفریحی پارک لیکن اس کے باوجو د خدائے ذوالجلال نے اس مٹی کو ایسا نواز دیا ہے کہ بس ہر طرف سے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔ایں سعادت بزور بازو نیست 28 دسمبر کا پہلا اجلاس ختم ہوا تو مجھے دو جرمنوں اور ایک انڈونیشی مسلمان سے ملاقات کا موقع ملا۔انڈونیشی انگریزی آہستہ آہستہ بولتا تھا۔مگر اسلام کے لئے سرتا پا محبت تھا۔اس کا کہنا تھا کہ اگر اس جماعت کا انڈونیشیا میں مرکز نہ ہوتا تو آزادی کی جدو جہد کے ایام میں شاید ہمارا سارا ملک ہی کیمونسٹ بن چکا ہوتا۔مگر ان مبلغوں نے ہمیں اسلام صرف بتایا ہی نہیں اس پر قائم رہنے میں بھی مدددی۔افسوس کہ مجھے ایک شادی میں شرکت کی وجہ سے وہاں سے جلد لوٹنا پڑا۔لہذا مجبوراً اٹھ کر کھڑا ہوا۔اس وقت اسٹیج سے کوئی احمدی شاعر اپنے اس شعر سے میرے دلی جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔یہ بزم ناز ہے کس جاں نثار دین احمد کی یہاں تو سرنگوں ہے کجکلاہوں کی رعونت بھی مگر سارا راستہ یہ سوچتا آیا، ہمارے ملا لوگ بھی خوب ہیں۔انہوں نے تکفیر سازی کواب با قاعدہ پیشہ بنا لیا ہے۔یہ نہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔اور دین کے نام پر ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ بے دینی بھی ان کی مکاریوں سے پناہ مانگ اٹھتی ہے۔گجا یہ کہ باہر یہ پھیلایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے رسول کریمہ کے مقابلے پر اپنا ایک نیا بی گھڑ رکھا ہے۔اور کجا یہ حقیقت کہ یہاں ذرہ ذرہ دل و جان سے آمنہ کے اس لال پر فدا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا۔یہ محدود علم کے لوگ کب تک کیچڑ کی دیوار میں بن کر حق کی تلاش کرنے والوں کا راستہ روک کر کھڑے رہیں گے۔اللہ ہر ایک کو یہ توفیق دے کہ وہ اجہلوں کی ہر قسم کی لعنت و ملامت سے بے نیاز ہو کر اس جماعت کی طرح اس روشنی کو پھیلانے کی سعادت حاصل