تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 567 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 567

تاریخ احمدیت 567 جلد 21 جناب والا! بعض ” بگاڑ بھی ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے سنوار کے پہلو نکل آتے ہیں۔ہماری بس سرگودھا سے آتی ہوئی احمد نگر کے برابر پہنچ کر کچھ ایسی بگڑی کہ ہم مایوس ہو کر پیدل ہی چنیوٹ کی سمت روانہ ہو گئے۔اور پھر کوئی پون میل کی پیدل مسافت کے بعد ربوہ کے اڈے پر آگئے۔جہاں ان دنوں خوب گہما گہمی تھی۔دل نے کہا۔چلور بوہ کی سیرا اپنی آنکھوں سے بھی کر دیکھیں۔لائکپور کا ایک مولوی تو منبر پر سوار ہو کر اکثر اس جماعت کے متعلق عجیب و غریب فیلر چھوڑ تا رہتا ہے۔۔۔چنانچہ میں سیدھا وہاں سے جلسہ گاہ میں پہنچا۔جہاں ستر پچھتر ہزار کے لگ بھگ افرادزمین پر پرالی پر بیٹھے اپنی جماعت کے علماء کی تقریریں سن رہے تھے۔جب میں پہنچا۔ایک سوئٹزرلینڈ کا گورا مسلمان انگریزی میں حاضرین جلسہ کو خطاب کر رہا تھا۔میں اس کی تقریر کا جتنا حصہ بن پایا یہ تھا ( ترجمہ ) ” میرے بھائیو! میں سوئٹزر لینڈ سے آیا ہوں۔سوئٹزر لینڈ کی جماعت نے آپ سب کی خدمت میں السلام علیکم کے بعد دلی شکریہ کا نذرانہ بھی بھجوایا ہے کیوں کہ آپ سب نے بڑی محبت کے ساتھ سوئٹزر لینڈ کی مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔میں آج آپ لوگوں سے خطاب کرتا ہوا پھولا نہیں سما تا۔کہ آپ کی اسلام سے محبت کے طفیل ہمیں بھی اسلام ایسی نعمت غیر مترقبہ ملی اور وہاں بھی رسول اللہ علیہ کے شیدائیوں کی ایسی جماعت پیدا ہوئی۔جو صبح سویرے اٹھتے اور رات کو بستروں میں گھستے وقت اب اپنے سینوں پر صلیب کا نشان بنانے کی بجائے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتی ہے۔" سبحان اللہ اس مختصر سی تقریر میں کتنا اثر اور جذب تھا کہ ہر طرف سے نعروں کا غلغلہ بلند ہو گیا۔اور میرے اردگر داس تقریر کو سن کر کتنے ہی اپ ٹو ڈیٹ احباب کے گالوں پر محبت اور مسرت کے آنسو بہہ نکلے۔اس خوشی میں کہ مولا کریم نے انہیں ایک اور ملک میں اللہ اور اس کے پیارے رسول کا نام پہنچانے کی توفیق دی ہیں کرسیوں والے بلاک ہی میں مجھے میرے ایک لائکپوری پروفیسر مل گئے۔انہوں نے رات کے کسی اجلاس کی کارروائی سنائی۔جس میں چار درجن کے لگ بھگ بیرونی مشنریوں نے حاضرین کو خطاب کیا تھا۔اپنی اپنی زبان میں۔ان کی زبانیں مختلف تھیں۔لہجے مختلف تھے۔ان کے رنگ اور چہروں کے نقوش بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔لیکن جب وہ اپنی تقریروں کے دوران ہمارے پیارے رسول ﷺ پر درود بھیجتے تھے یا قرآن کی کسی آیت اور نبی کریم میہ کی کوئی حدیث تلاوت کرتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب ایک ہی درخت کے پھل ہیں۔ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں جنہیں اس جماعت کے