تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 512
تاریخ احمدیت 512 جلد 21 الف:۔اس فتنہ کے انسداد کے سلسلہ میں عوام کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے مندرجہ ذیل عناوین پر رسائل اور پمفلٹ شائع کئے گئے۔1 - مودودی صاحب کے رسالہ ختم نبوت“ کا جواب علمی تبصرہ کے عنوان پر مکرم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل کا تحریر کردہ ۹۰۰۰ ہزار کی تعداد میں شائع کر کے ملک کے طول وعرض میں پھیلایا گیا۔اس کا بنگالی میں ترجمہ کر کے مشرقی پاکستان میں ۵۰۰۰ ہزار کی تعداد میں تقسیم کیا گیا۔2:- محترم مولانا ابوالعطاء صاحب کا تحریر کردہ جواب بھی " القول المبین فی تفسیر خاتم النبین“ 1000 کی تعداد میں نظارت کی طرف سے شائع کیا گیا۔3:- خاتم انبین کا عدیم المثال پمفلٹ ۵۰۰۰ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔4:- خاتم النبین اور بزرگان امت کے عنوان سے ایک پمفلٹ ۱۵۰۰۰ ہزار کی تعداد میں شائع کیا۔5:۔مکتوب حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب جس میں ختم نبوت کے متعلق جماعت کا نظریہ بیان کیا گیا تھا۔سولہ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔6: - " جماعت احمدیہ کے عقائد جس میں مسئلہ ختم نبوت کے متعلق ضروری وضاحت بھی کی گئی ہے۰ ۵ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔علاوہ ازیں مولانا جلال الدین شمس صاحب کی تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کتابی صورت میں ۱۵۰۰۰ ہزار کی تعداد میں چھپ رہی ہے۔گویا اس فتنہ کے ازالہ کے لئے (۱۱۶۰۰۰) ایک لاکھ سولہ ہزار کتب، رسائل اور پمفلٹ شائع کرنے کا انتظام کیا گیا۔(ب) حکام بالا تک مخالفین کی غیر مناسب اور فتنہ انگیزی پر مشتمل کارروائیوں کی اطلاع پہنچائی جاتی رہی اور بعض جگہ ان کے متعلق حکام نے ضروری کارروائی بھی کی۔(ج) حکام بالا سے ملاقاتیں کی گئیں اور اس فتنہ کے مالہ وماعلیہ اور خطرناک نتائج جس سے ملک کا امن و امان خطرہ میں پڑنے کا اندیشہ ہے ان سے اس کا ذکر کیا گیا۔( د ) بعض ملکی و علاقائی اخبارات کے ذریعہ بھی اس فتنہ کے ازالہ کے لئے مختلف طریق پر مناسب کوشش کی گئی۔(ر) حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا بیان و مکتوب بمعہ متعلقہ امور کی وضاحت کے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا تھا جو حکام بالا۔پولیس کے افسران۔پارلیمنٹ کے ممبران اور وزراء تک پہنچایا گیا۔