تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 513
تاریخ احمدیت 513 ( ز ) نظارت اصلاح وارشاد نے بعض دیگر مساعی کو بھی عملی جامہ پہنایا۔خلاصہ یہ ہے کہ نظارت اس فتنہ کو فرو کرنے میں پوری فرض شناسی سے مصروف عمل رہی۔جلد 21 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا سالانہ اجتماع سے آخری افتتاحی خطاب گذشتہ سال کی طرح امسال بھی خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع (19-20-21 اکتوبر 1962ء) کی افتتاحی تقریر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ارشاد فرمائی۔آپ کی طبیعت ناساز تھی اس لئے کرسی پر بیٹھ کر آپ نے خطاب کیا۔جو آپ کی زندگی کا خدام احمدیت کے سالانہ اجتماع سے آخری پبلک خطاب تھا۔جس کے بعض اہم حصتے ذیل میں ریکارڈ کئے جاتے ہیں۔آپ لوگوں میں سے کافی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہوگی جو بھی سکولوں اور کالجوں میں تعلیم پارہے ہیں۔انہیں اس غلط فہمی میں نہیں مبتلا ہونا چاہیے کہ تعلیم پانے کا زمانہ صرف درس گاہوں کی چاردیواری تک محدود ہے۔حق یہ ہے کہ درس گاہیں تو صرف علم کے دروازے تک پہنچاتی ہیں۔اس کے آگے علم کا ایک بہت وسیع میدان ہے۔ایسا وسیع جس کی کوئی حدو انتہا نہیں۔اس میدان میں انسان سکول اور کالج سے فارغ ہونے کے بعد خود اپنی کوشش اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھلا رکھنے کے ذریعہ علم حاصل کرتا ہے۔پس درس گاہوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی تحصیل علم کا سلسلہ جاری رکھو۔اور ضرور جاری رکھو کیونکہ یہ وہ علم ہے جو درس گاہوں میں حاصل ہو نیوالے علم سے بہت زیادہ وزن رکھتا ہے۔ہمارے آقا ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ورحمت سے علم کے آسمان پر پہنچا دیا مگر پھر بھی آپ کی یہی پکار رہی کہ رب زدنی علما۔رب زدنی علما یعنی خدایا مجھے اور علم عطا کر۔مجھے اور علم عطا کر “ دینی علوم کے حصول کے لئے آپ لوگوں کے واسطے تین نہایت قیمتی خزانے موجود ہیں۔ایک قرآن مجید ہے۔جو خدا کا کلام ہے اور اس کے علوم میں اتنی وسعت ہے کہ قیامت تک کے لئے اور دنیا کی ساری قوموں کے لئے وہ تمام ضروری علوم کا خزانہ اور سرچشمہ قرار دیا گیا ہے۔پس اسے سیکھو اور اس کے ساتھ محبت پیدا کرو۔ایسی محبت جس کی نظیر نہ ہو۔پھر حدیث ہے جو حضرت خاتم النبین ﷺ کے مبارک اقوال کا مجموعہ ہے اور وہ بھی بیش بہا علوم پر مشتمل ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح مکہ کے صحراء میں 66