تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 505 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 505

تاریخ احمدیت 505 جلد 21 اچھنبے کی بات معلوم ہوتی تھی کہ کسی کو اس پر اعتماد نہیں تھا۔اسی اثناء میں 21 دسمبر کا دن آ گیا۔اس دن کے ایجنڈے پر آخری اندراج اعلان صدر درباره تکمیل اجلاس کے الفاظ میں تھا۔پر لیس اور مند و بین دونوں حیران رہ گئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کیونکہ سب کا اندازہ تھا کہ گوا جلاس ختم ہونے کو ہے لیکن یہ ہرگز ممکن نہیں کہ مجوزہ تاریخ سے ایک روز قبل آج ہی ختم ہو جائے مجوزہ تاریخ کی نصف شب تک ضرور چلے گا۔مگر دنیا بھر کے چوٹی کے سب سیاسی نمائندوں اور صحافیوں کے اندازے یکسر غلط ثابت ہوئے اور سترھواں اجلاس اسی روز نہایت کامیابی کیساتھ اختتام پذیر ہو گیا جس سے جنرل اسمبلی کی تاریخ میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور ہر طرف خوشی اور مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ایجنڈا ختم ہوا تو الوداعی تقریروں کا سلسلہ شروع ہوا اسوقت ماحول نہایت سنجیدہ اور پر اطمینان تھا۔منتخب مندوبین نے نہایت محبت و اخلاص اور عقیدت بھرے الفاظ میں حضرت چودھری صاحب کو خراج تحسین ادا کیا۔پروفیسر مالاسیکر انے بھی نہایت تعریفی کلمات میں آپ کی خدمات کو سراہا۔اگر چہ سارے اشتراکی ممالک کی طرف سے بلغاریہ کے مندوب مناسب الفاظ میں اظہار کر چکے تھے۔لیکن روسی سفیر زورین اس پر مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے روس اور اشترا کی ممالک کی طرف آپ کی عظیم الشان خدمات اور بالخصوص آپ کی غیر جانبداری کی دل کھول کر تعریف کی۔اسمبلی کی کارروائی کا کامیابی سے اختتام حضرت چودھری صاحب اس اختتامی کا رروائی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” میرا ارادہ اپنے الفاظ کو مند و بین اور عملے کے تعاون کے شکریہ تک محدود رکھنے کا تھا لیکن ایوان کا ماحول کچھ زائد کا متقاضی تھا میں نے خوشحال اور تنگ حال ممالک کے درمیان اقتصادی تفاوت کی طرف توجہ دلا کر اس بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔میری آواز ہجوم جذبات کی وجہ سے نرم اور دبی ہوئی تھی شاید اس وجہ سے اور بھی توجہ سے سنی گئی۔ایوان میں کامل خاموشی تھی۔لیکن جب میں نے آخری الفاظ اپنے رفقاء کو خدا حافظ کہہ کر تقریر کوختم کیا تو بالکل ایسا معلوم ہوا جیسے کسی طوفانی سمندر کا بند ٹوٹ گیا ہے اور مندوبین کا ایک جمگھٹا صدارت کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گیا۔بعض افریقی اور ایشیائی مندوبین نے مجھے معانقے سے نوازا اور بہت سوں نے شکریہ اور آفرین کے الفاظ کہے۔میں کچھ کہنے کے قابل نہ تھا لیکن دل بار بار پکار رہا تھا سجدت لك روحى وجناني۔سجدت لك روحى و جناني 766