تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 502
تاریخ احمدیت 502 جلد 21 میں پہنچ جاتا ہوں۔جو امر میرے لئے آسان ہے وہ آپ سب کے لئے آسان تر ہونا چاہیئے۔حضرت چودھری صاحب نے یہ بات بے تکلفانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہی اور مندوبین نے بھی ہنستے ہنستے سنی۔لیکن اس کے بعد وہ ایسے پابند اوقات ہوئے کہ آپ کو اس کے دُہرانے کی ضرورت پھر 141 کبھی پیش نہیں آئی۔پیشتر از میں جنرل اسمبلی میں ضابطے کے سوالوں پر بڑی گرما گرم بحثیں ہوتی تھیں اور پہلے سالوں میں تو ہرا جلاس میں صبح شام تین چار بلکہ اس سے بھی زیادہ دفعہ ایسے سوال اٹھائے جانے کا معمول ہو گیا تھا۔اس سے ایک تو پروگرام میں حرج واقع ہوتا دوسرے زیادہ ضابطے کے سوالوں کا اٹھایا جانا صد راسمبلی کی کار کردگی پر اعتراض سمجھا جاسکتا ہے۔حضرت چودھری صاحب کے دور صدارت کی یہ منفرد اور مثالی خصوصیت ہمیشہ یادگار رہے گی کہ سترھویں اجلاس کے دوران کسی مندوب کو ضابطے کا سوال اٹھانے کی جرات نہیں ہوئی۔آپ نے ارکان اسمبلی کی سہولت کے لئے کمیٹیوں کے صدروں کو یہ قیمتی مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے ایجنڈوں کی ہفتہ وار تقسیم کے نقشے تیار کر لیں اور جب دیکھیں کہ کسی ہفتے میں کام کی رفتارست پڑ رہی ہے۔تو کمیٹی کو توجہ دلا دیں اور کہہ دیں کہ ہفتے کا کام ختم کرنے کی خاطر کمیٹی کے اجلاس شام کو بھی مقرر کرنا ہوں گے۔اس تجویز پر عمل کرنے سے بہت فائدہ ہوا اور بہت کم شام کے اجلاس کرنے پڑے۔اسمبلی کا آخری اجلاس تو شام کو رکھنا لازم ہوتا ہے اور نصف شب تک چلتا ہے لیکن آپ کے عہد صدارت میں نہ تو ہفتے کی صبح کو کوئی اجلاس کرنا پڑا اور نہ کسی شام کو۔اس طریق سے مندوبین کو بھی بہت سہولت رہی اور انہیں ایجنڈے کے مسائل پر غور اور مشورہ کرنے اور متفرق امور کی طرف توجہ کرنے کے مواقع متواتر میسر آتے رہے۔اسمبلی کا دستور ہے کہ ہر دوسری جمعرات کے دن صدر اسمبلی اقوام متحدہ میں کام کرنے والے پریس کے نمائندگان میں سے پندرہ میں نمائندگان کی دو پہر کے کھانے پر دعوت کرتا ہے دوسری طرف پر لیس کے نمائندگان ہر سیشن کے دوران میں ایک بار صدر کے اعزاز میں شام کے کھانے پر ایک جشن منعقد کرتے ہیں جس میں کھانے کے بعد موسیقی اور ناچ اور تماشا ہوتا ہے۔یہ تقریب رات دو بجے تک جاری رہتی ہے۔حضرت چودھری صاحب سے اقوام متحدہ کے صحافیوں کی انجمن کے صدر نے دریافت کیا کہ کیا فلاں شام اس جشن کے لئے موزوں رہے گا۔آپ نے پیغام دیا کہ مجھے اس تقریب کیلئے کوئی شام بھی موزوں نظر نہیں آتی جس پر صدر صاحب خود ملاقات کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے انہیں بتایا کہ اس تقریب کا