تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 474 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 474

تاریخ احمدیت 474 جلد 21 اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ میں اسمبلی سے متعلقہ امور کے انچارج نائب سیکرٹری مسٹر اینڈ ریوکور ڈیر (Mr۔Andrew Cor Dier) تھے جو ابتدا سے اس منصب پر فائز چلے آ رہے تھے۔وہ اسمبلی کے سولہویں اجلاس کے بعد مستعفی ہو کر کولمبیا یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے ادارے میں ڈین کے منصب پر فائز ہو گئے تھے اور ہرا جلاس میں صدر کے بائیں ہاتھ بیٹھتے تھے اور اپنے علم ، قابلیت اور تجربے کی وجہ سے ممتاز حیثیت حاصل کر چکے تھے۔صدر کیلئے ان کی موجودگی بہت تقویت کا موجب ہوتی تھی۔وہ اسمبلی کی نبض شناسی میں خوب ماہر ہو چکے تھے۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب پہلے صدر تھے جنہیں ان کا مشورہ میسر نہیں تھا ایسے تجربہ کا نائب سیکرٹری سے محروم ہو جانا طبعی طور پر آپ کے لئے وجہ پریشانی تھا خصوصاً اس لئے کہ آپ نے اسمبلی کے قواعد وضوابط کا گہرا مطالعہ نہیں کیا ہوا تھا اور صدر کو قدم قدم پر قواعد کے ساتھ سابقہ پڑتا ہے۔جوارکان اسمبلی چند ایک کمیٹیوں کی صدارت کر چکے ہوں انہیں صدارت کے فرائض کے متعلق خاصہ تجربہ ہو جاتا ہے۔بلکہ کمیٹی اول کی صدارت تو گویا اسمبلی کی صدارت کا پیش خیمہ سبھی جاتی ہے۔مگر آپ کو تو اسمبلی کی کسی کمیٹی کی صدارت سرانجام دینے کا موقع نہیں ملا تھا حضرت چوہدری صاحب اپنی اس بے بسی کو دیکھ کر نہایت درد بھرے دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو گئے اور نماز میں نہایت عاجزی سے دعا کی کہ :- ”اے اللہ یہ منصب خالص تیری عطا ہے تو اپنے اس عاجز بندے کی خامیوں سے خوب واقف ہے۔مجھے اس منصب کے فرائض کی سرانجام دہی میں جو مشکلات پیش آئیں تو اپنے خاص فضل سے انہیں خود ہی حل فرمائیو اور ہر مرحلے پر اس عاجز کی رہنمائی فرمائیو۔128 اپنے مولا سے اس دردمندانہ التجا کے بعد آپ صدر اسمبلی کی کرسی پر رونق افروز ہوئے اور عہدہ سنبھالتے ہوئے بلند آواز سے قرآن مجید کی ایک دعا پڑھی جو جنرل اسمبلی کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔یہ دعا حسب ذیل تھی :- رب اشرح لي صدري ويسرلی امری واحلل عقدة من لساني يفقهوا قولي۔اے میرے رب میرا سینہ کھول دے اور میرا کام میرے لئے آسان کر دے اور میری زبان سے گرہ کھول دے تا کہ وہ میری بات سمجھیں۔مولا نا عبدالماجد کا زبر دست خراج تحسین مولا نا عبدالماجد صاحب دریا بادی نے اپنے ایک نوٹ میں لکھا:۔