تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 390
تاریخ احمدیت قبول احمدیت اور انقلابی دور کا آغاز 390 جلد 21 حضرت سیٹھ صاحب 9 اپریل 1915 ء کو داخل احمدیت ہوئے اور پھر اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور جائیداد عملاً دین کے لئے وقف کر کے دیوانہ وار جہاد تبلیغ میں منہمک ہو گئے اور انگریزی ، اردو، گجراتی، ملیالم، تلگو، گورمکھی ، ہندی ، برمی ، کنٹری اور چینی زبان میں اپنے خرچ پر اس درجہ وسیع پیمانے پر دینی لٹریچر شائع کیا کہ اس سے پہلے جماعت کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ لٹریچر دنیا میں جہاں جہاں پہنچا وہاں وہاں اُس کے شاندار نتائج رونما ہوئے۔بہت سی سعید روحوں نے حق قبول کیا۔گیمبیا میں احمدیت کا بیج آپ کی شائع کردہ نماز ہی کے ذریعہ بویا گیا جو آہستہ آہستہ تناور درخت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔بیعت کے بعد 1915ء میں آپ نے پہلی کتاب EXTRACTS FROM HOLY" QURAN کے نام سے انگریزی میں شائع فرمائی۔یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور آپ کی زندگی میں اسکی تیرہ بار اشاعت ہوئی۔دسمبر 1916ء میں آپ پہلی بار جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان دارالامان تشریف لے گئے جس کے بعد (چند مستثنیات کے سوا) آپ قریباً اکتالیس سال تک اس مبارک تقریب کی برکات سے مستفید ہوتے رہے۔جلسہ کا ایک اجلاس ہمیشہ (الا ما شاء اللہ ) آپ کی زیر صدارت ہوتا تھا۔اگست 1917 ء میں قادیان سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب" فاضل حلالپوری بغرض تبلیغ بمبئی بھیجے گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر آپ بھی شامل وفد ہوئے اور تبلیغی سرگرمیوں میں اس درجہ نمایاں اور سرگرم حصہ لیا کہ مخالفین نے آپ کو قتل کرنے کی سازش کی مگر خدا کے فضل سے یہ منصوبہ ناکام رہا۔1918ء میں آپ کا انجمن احمد یہ حیدر آباد دکن کے سالانہ جلسہ میں ایک نہایت پُر جوش لیکچر ہوا جس کا عنوان تھا دنیا کے تمام مسلمانوں کی علی الخصوص اور دیگر مذاہب کو بالعموم دس ہزار روپے کے انعام کے ساتھ ایک چیلنج سید بشارت احمد صاحب نے جلسہ کی رپورٹ میں لکھا:۔سیٹھ صاحب نے جس عمدگی اور خوش دلی کے ساتھ اپنے مضمون کو سنایا نہ صرف دیگر سامعین کو بلکہ ہم واقف کاروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔خدا کی قدرت نظر آتی تھی کہ چند سال میں آپ کو کیسے معلومات اور قوت بیانی حاصل ہو گئی کہ اعلیٰ سے اعلیٰ مضمون نگار بھی