تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 299
تاریخ احمدیت 299 جلد 21 قیام پاکستان کے بعد آپ پہلے سرگودھا میں دعوت وارشاد کا کام کرتے رہے پھر 1948ء میں مبلغ لاہور مقرر کئے گئے اور ایک لمبا عرصہ جو کم و بیش چھ سال تک ممتد تھا اشاعت حق میں کمال جانفروشی کے ساتھ منہمک رہے۔اس دوران میں آپ نے بہت سے جلسوں سے خطاب کیا۔ساڑھے بائیس ہزار ٹریکٹ شائع کئے۔درس قرآن دیا۔قرآن کلاسز جاری کیں۔1953ء کے فسادات لاہور میں بلوائیوں نے دہلی دروازہ کی مسجد اور آپ کی قیام گاہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔اس موقعہ پر آپ نے کمال بہادری اور جوانمردی کا ثبوت دیا۔کچھ عرصہ آپ تحقیقاتی عدالت کے لئے مواد جمع کرنے میں وقف رہے۔1955-56ء میں آپ مقامی اصلاح وارشاد کے زیرانتظام سرگودھا، جھنگ اور لائل پور (فیصل آباد) میں اہم تبلیغی خدمات بجالاتے رہے۔1956-57ء میں آپ کا تقرر مرکزی مہمان خانہ میں ہوا۔جس کے دوران بیر ونجات میں بھی آپ نے 16 لیکچر دئے اور 62 نفوس آپ کے ذریعہ حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔15 اپریل 1959ء کو آپ ریٹائر ہوئے مگر آپ کے جوششِ خدمت اور دینی جذ بہ اور ولولہ میں کوئی کمی نہیں آئی اور آپ تحریک جدید میں کام کرنے لگے۔زندگی کے آخری دور میں آپ کو زعیم اعلیٰ ربوہ کی اہم ذمہ داری سپرد کی گئی جسے آپ نے پوری فرض شناسی سے نباہا۔الغرض آپ کی پوری زندگی تبلیغی جہاد میں بسر ہوئی۔ع خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را مولانا عبدالغفور صاحب فاضل جلسہ سالانہ کے ممتاز مقررین میں سے تھے۔جلسہ سالانہ کے مقدس سٹیج سے آپ کی پہلی تقریر 1930ء میں اجرائے نبوت از روئے قرآن“ کے موضوع پر ہوئی اور آخری تقریر جلسہ سالانہ 1951 ء پر ہوئی جس کا عنوان تھا ” صداقت حضرت مسیح موعود قرآن و حدیث کی روسے“۔آپ کی تقریر نہایت سادہ مگر بہت مؤثر اور معلومات افروز ہوتی تھی۔بنیادی مسائل کا بار یک نظری سے مطالعہ کرنے اور نئے انداز اور نئے استدلال کے ساتھ پیش کرنے کا انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔آپ خلافت ثانیہ کے ان ابتدائی مبلغین میں سے تھے جنہیں چومکھی لڑائی لڑنی پڑی۔اس معرکہ آزمائی میں آپ نے کبھی اپنے آرام کا خیال نہیں رکھا اور نہ کسی چیز کو حائل ہونے دیا۔مشکلات کے وقت آپ ایمان کی مضبوط چٹان ثابت ہوئے اور ہر نازک موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی غیبی امداد آپ کے شامل حال رہی۔اکثر بسلسلہ تبلیغ گھر سے باہر رہے۔گھر میں آکر ویسا ہی دینی جوش اپنی اولاد میں دیکھنے کی خواہش