تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 264
تاریخ احمدیت 264 جلد 21 میں سفید ورق پر آپ تحریر فرماتے تھے۔ٹیکنیکل کتب سے آپ کو بہت دلچسپی تھی۔دس بارہ ہزار روپیہ کی ٹیکنیکل کتب کارخانہ میں منگوا کر رکھی ہوئی تھیں۔شیعہ مذہب کا مطالعہ خاص طور پر فرماتے اور اکثر نواب احسان علی خان صاحب سے تبادلہ خیالات فرماتے لیکن آپکا طریق ایسا ہوتا تھا کہ کوئی آدمی اس سے چڑتا نہ تھا“۔گھر میں آپکے لئے کوئی علیحدہ چیز تیار نہ کی جاتی تھی آپ بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔کھانے میں نہایت سادہ تھے۔274 66 الغرض آپ نہایت مشفق اور مہربان باپ تھے اور آپ کی ذات بابرکات حدیث نبوی حمید لالی خیر کم خیر کم لاهله “ کی بہترین نمونہ تھی۔نور اللہ مرقده حضرت مصلح موعود سے والہانہ عشق سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 22 فروری 2009 ء کو کلاس گلشن وقف نو کو خطاب فرماتے ہوئے بتایا:- ”میرے دادا۔۔۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب۔۔۔۔ایک دفعہ مجھے ساتھ لے گئے کہ حضرت خلیفہ ثانی کو ملنے جانا ہے۔صبح کا وقت تھا تو جب ان کے گھر پہنچے قصر خلافت میں تو وہ نیچے کھڑے ہو گئے۔مجھے کہا کہ اوپر جاؤ تم جاکے بتا کے آؤ کہ میں ملنے آرہا ہوں اجازت لے کر آؤ۔چھوٹے بھائی تھے لیکن اس طرح نہیں کہ کھولا دروازہ اندر گھس گئے گھر میں جس طرح ہمارے آجکل ہوتا ہے۔پہلے مجھے بھیجا اوپر جاؤ حضرت چھوٹی آپا تھیں وہاں جا کر میں نے انہیں کہا کہ اس طرح میرے دادا کو ہم ابا جان کہتے تھے کہ انہوں نے ملنے ہے آنا ہے۔حضرت خلیفہ ثانی کو پوچھا وہ لیٹے ہوئے تھے نا۔انہوں نے کہا ٹھیک آجا ئیں۔کوئی بات کرنی تھی پھر میں نیچے آیا ان کو بتایا پھر وہ اوپر گئے۔پھر وہاں حضرت چھوٹی آپا حضرت ام متین نے کرسی رکھی تھی سرہانے ان کے جہاں وہ لیٹے ہوئے تھے نا، سر کی طرف بیٹھنے کے لئے حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی۔تو وہ انہوں نے کرسی ہٹا دی اور نیچے بیٹھ گئے۔اور جو بھی باتیں کرنی تھیں مجھے باتیں تو یاد نہیں نو دس سال کی عمر میں کیا باتیں تھیں تو جو بھی باتیں تھیں کیں اس کے بعد بڑے احترام سے اٹھے اور آگے آئے اور وہ جو باتیں یہ مجھے تاثر ہے دونوں بھائیوں کی جو باتیں ہو رہی تھیں نا جو اپنی