تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 187
تاریخ احمدیت 187 جلد 21 گراں قدر خدمات کے اعتراف کے طور پر ہے جو آپ نے ہماری آزادی کے حصول کے لئے دیں ہیں۔140 صاحبزادہ مرز امبارک احمد صاحب کا دورہ یورپ اس سال صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ و وکیل التبشیر نے یورپ اور امریکہ کا بھی کامیاب دورہ کیا۔آپ 31 مئی کو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز روانہ ہوئے اور قریباً پانچ ماہ بعد 142 141 27 اکتوبر کو واپس کراچی پہنچے۔آپ اس سفر میں انگلستان، امریکہ سپین، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، سویڈن اور ڈنمارک تشریف لے گئے اور تبلیغی مساعی کو زیادہ منظم اور نتیجہ خیز بنانے میں شاندار خدمات انجام دیں۔صاحبزادہ صاحب کی کامیاب مراجعت پر تحریک جدید کی طرف سے 20 نومبر 1961 ء کو وسیع پیمانے پر ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس کی صدارت کے فرائض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ادا فرمائے۔اس موقعہ پر صاحبزادہ صاحب نے ان ممالک خصوصاً سکینڈے نیوین ممالک میں اشاعت احمدیت کی بعض نہایت ایمان افروز تفصیلات بیان فرمائیں اور بتایا کہ ناروے اور ڈنمارک میں نہایت مخلص جماعتیں قائم ہیں جوا خلاص و قربانی تنظیم، دینی احکام کی پابندی اور خدمت دین کی تڑپ کے اعتبار سے نئی قائم ہونے والی جماعتوں کے لئے قابل رشک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ نے ناروے کے طاہر احمد اور ڈنمارک کے عبدالسلام میڈسن کے اخلاص دینی جوش اور جذبہ ایثار و قربانی کا خاص طور پر ذکر کیا۔نیز بتایا کہ کس طرح میڈسن صاحب نے ڈینش زبان میں ترجمہ قرآن کرنے کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔آپ نے وہاں کے مبلغ انچارج کمال یوسف صاحب کے اخلاص، نیکی اور جذبہ خدمت کی بہت تعریف کی اور فرمایا یہ صرف اور صرف ان کی ذاتی نیکی کا ثمرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہاں ایسی مخلص اور فدائی جماعت عطا فرمائی ہے۔صاحبزادہ صاحب نے دوران تقریر اس پریس کانفرنس کی خوشکن تفصیلات پر روشنی ڈالی جس سے آپ نے سویڈن میں خطاب فرمایا تھا اور جس کی رپورٹ سکنڈے نیوین ممالک کے ایک سو کے قریب اخبارات میں شائع ہوئی اور دین حق کا خوب زور و شور سے چرچا ہوا اور اخباروں میں ایک طویل بحث کا سلسلہ چل نکلا۔اس طرح کوپن ہیگن میں خانہ خدا کی تعمیر کے فیصلہ پر وہاں کے اخبارات میں جلی عنوانوں کے ساتھ خبروں کی اشاعت ہوئی۔حتی کہ ایک اخبار نے تو یہاں تک لکھا کہ ڈنمارک کے نومسلموں کے لئے مسجد خودحکومت ڈنمارک کے لوگوں اور حکومت کو تعمیر کرا دینی چاہئے۔