تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 117
تاریخ احمدیت 117 جلد 21 سنگھاٹے بھی تھے۔آپکا تعلق گیمبیا کے میڈ نگو قبیلے سے تھا اور ملک کے مشہور لیڈروں میں سے تھے۔10 25 مئی 1961ء کو عیدالاضحیہ کی شاندار اور پر مسرت تقریب ہوئی جسمیں پانچو مخلصین تشریف لائے۔آپ نے انگریزی میں ایک نہایت مؤثر خطبہ دیا جس کا وولف زبان میں ترجمہ جناب علی مختار با صاحب نے کیا۔خطبہ سے سب حاضرین بہت محظوظ ہوئے اور احمدی اور غیر احمدی احباب نے متفقہ طور پر اس رائے کا اظہار کیا کہ ہم نے آج تک عید الاضحیہ کی حقیقت کو نہیں سمجھا تھا اور نہ ایسی باتیں ہمارے کسی امام نے بتائیں۔اصل اسلام یہی ہے جسے احمدیت پیش کرتی ہے۔اس خطبہ سے احمدیت کا خوب چرچا ہوا۔اور اگلے روز ہی گیمبیا کے سب سے بڑے مسلمہ عالم دین اور جسٹس الحاج داؤ دانچی بھی حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے۔چند روز بعد علامہ ابراھیم قادر نے بھی بیعت کر لی۔آپ ان حضرات علماء میں سے ایک تھے جنہوں نے چیف امام صاحب باتھرسٹ کے ساتھ اس عرضداشت پر دستخط کئے تھے کہ گیمبیا میں احمد یہ مشن کے قیام کی اجازت نہ دی جائے۔اس مشن ہاؤس میں زائرین پہلے سے زیادہ تعداد میں آنے لگے۔اور وہ تبلیغ کا وسیع مرکز بن گیا۔خود محمد شریف صاحب نے مقامی احمدیوں کے تعاون سے نامور اور با اثر افراد تک پیغام حق پہنچانے کی کوششیں تیز تر کر دیں۔جون کے پہلے ہفتہ میں آپکی قیادت میں جماعت احمدیہ کے ایک نمائندہ وفد نے جس میں غوث مصطفی کنینا صاحب ( پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ گیمبیا)، علی با صاحب ، آش مالک انڈوئی صاحب اور عمر جوف صاحب بھی شامل تھے قصبہ گنجور کے چیف جنڈ والطور سے تبلیغی ملاقات کی۔یہ وفد ایک امام المامی کی مسجد میں بھی گیا جہاں چوہدری صاحب نے عربی میں خطاب فرمایا۔70 اگست 1961 ء کو آپ نے پکٹن سٹریٹ ہاتھرسٹ میں کرایہ کی دکان میں احمد یہ بک ڈپو کا افتتاح کیا جسے بعد میں احمد یہ مشن ہاؤس میں تبدیل کر دیا گیا۔بک ڈپو کے ذریعہ تبلیغ احمدیت میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔اگست کے دوسرے ہفتہ میں گیمبیا مشن کی طرف سے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا۔پہلاٹریکٹ ایک ہزار کی تعداد میں چھپوایا گیا۔ٹریکٹ کا عنوان تھا: "YOUR IMAM HAS COME" اسکے بعد مندرجہ ذیل تین ٹریکٹ شائع کئے گئے : "LISTEN TO THE WARNER" “AN UNCHANGEABLE LAW OF GOD" 21- “DISCOVERY OF BAHAISM" ان ٹریکٹوں کے علاوہ احمدیہ مشن نائجیریا کے احمدی اخبار ”THE TRUTH“ کے