تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 82 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 82

تاریخ احمدیت 82 جلد 21 آزاد نہ تبادلۂ خیالات کریں تا سب کو مذہبی آزادی حاصل رہے اور حق کو پر کھنے کا راستہ کھلا رہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریڈیو پر نشر کردہ یہ مکالمہ اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دور کرنے اور اسلام میں لوگوں کی دلچسپی بڑھانے کا موجب ہوا۔نئے سکولوں کا قیام مغربی افریقہ میں جماعت احمدیہ کو یہ فخر حاصل ہے کہ سب سے پہلے اس نے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے وہاں سکول قائم کرنے کا انتظام کیا۔سکولوں کے کھولنے کا آغاز آج سے قریباً چالیس سال قبل ہوا تھا جب کہ حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر نے نائیجیریا کے شہر لیکس میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے پہلا سکول قائم کیا تھا اس کے بعد وہاں مزید مدارس کا قیام عمل میں آیا۔اسی طرح گھانا میں جماعت احمد یہ اس وقت گیارہ سکول چلا رہی ہے جن میں سے ایک کماسی کا سیکنڈری سکول بھی ہے۔سیرالیون پر ٹیکٹوریٹ کے علاقے میں بھی مسلمان بچوں کی تعلیم کے لئے جماعت احمدیہ نے ہی سکول کھولے ہیں اور اب وہاں مسلمانوں کا پہلا سیکنڈری سکول بھی کھولنے کا فخر اس جماعت کو ہی حاصل ہے۔یہ سکول ستمبر 1960ء میں کھولا گیا تھا جس کے پرنسپل مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب ایم۔اے، بی۔ٹی ہیں۔وہاں کی مرکزی حکومت کے وزیر خزانہ نے اپنے بچے کو بھی اس سکول میں داخل کرایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ کے قائم کر دہ سکولوں میں عام تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے امسال سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی طرف سے چار مختلف مقامات پر نئے پرائمری سکول کھولے گئے ہیں۔ان مقامات کے نام یہ ہیں۔( 1 ) باجے بو (2) لنسر (3) ملائی سوکو (4) میل نمبر 47 ( یہ ایک جگہ کا نام ہے)۔اس وقت تک سیرالیون میں احمد یہ مشن کی طرف سے گیارہ سکول قائم کئے جاچکے ہیں اور ابھی بہت سے علاقوں کے مسلمان باشندوں کی طرف سے درخواستیں آرہی ہیں کہ ان کے علاقوں میں بھی سکول کھولے جائیں۔نائیجیریا: انچارج مشن مولوی نورمحمد نسیم سیفی تھے اور خصوصی نائبین مولوی مبارک احمد صاحب ساقی ، حافظ محمد اسحاق صاحب اور مولوی محمد بشیر صاحب شاد۔الفضل میں وکالت تبشیر ربوہ کی طرف سے اس سال کے صرف پہلے ماہ کی رپورٹیں ہمیں ملتی ہیں جن کا ملخص یہ ہے۔رپورٹ مولوی مبارک احمد صاحب ساقی