تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 81
تاریخ احمدیت 81 جلد 21 اس بناء پر روزہ اس کے ذریعہ معاش میں حائل ثابت ہوتا ہے تو وہ روزہ نہ رکھے۔رہے وہ لوگ جو طاقت رکھنے کے باوجو دروزہ کی حالت میں کام کاج نہیں کرتے تو وہ بہانہ ساز ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔عرب مسلمان تو روزہ رکھ کر جنگوں تک میں شریک ہوا کرتے تھے۔ایسی صورت میں روزہ کو ملکی ترقی میں حارج قرار دینا بالکل غلط ہے۔دوسرے واضح رہے اسلام نے تعد دازدواج کی اجازت خاص مصالح کی بناء پر دی ہے۔مثال کے طور پر جنگ کی وجہ سے اگر عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے جیسا کہ ہو جایا کرتی ہے تو تعد داز دوج کا اصول ہی معاشرے کو صحت مند بنیادوں پر استوار رکھ سکتا ہے۔شیخ ڈرامی: اسلام عورت کو مرد کے مساوی حقوق دیتا ہے البتہ عورت چونکہ طبعا اور فطرۃ کمز ور واقع ہوئی ہے اس لئے اسلام نے مرد کو عورت کا محافظ قرار دیا ہے۔ڈاکٹر پورٹر: اسلام نے مرد کو حق دیا ہے کہ اگر وہ چاہے تو بیوی کو طلاق دیدے اس کے برعکس عورت کو ایسے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ڈاکٹر شاہنواز : عورت کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں خاوند سے چھٹکارا حاصل کر لے۔اسے اسلامی اصطلاح میں خلع کہا جاتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ بڑوں کے مشورے کے ساتھ اور عدالت کے ذریعے ایسا کرے کیونکہ اس میں مرد کی نسبت فیصلہ کی قوت کم ہوتی ہے۔ریورنڈ سائر (عیسائی): اسلام میں غلامی کو جائز قرار دیا گیا ہے ہم لوگوں کے لئے ایسا مذہب ہرگز قابل قبول نہیں۔ہمیں خدا خدا کر کے غلامی سے نجات ملی اب ایسے مذہب میں دوبارہ جانا جو غلامی کو روا رکھتا ہے کیسے ممکن ہے۔ڈاکٹر شاہنواز : یہ درست نہیں ہے۔اسلام تو وہ مذہب ہے کہ جس نے خود غلامی کو ختم کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلا کام ہی یہ کیا کہ زید کو جو غلام تھے آزاد کر دیا اور پھر ان کے ساتھ حسن سلوک کی وہ مثال قائم کر دکھائی کہ انہوں نے اپنے والدین کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس رہنے کو خود ترجیح دی۔اس صورت میں یہ کہنا کہ اسلام غلامی کی اجازت دیتا ہے کیسے درست ہو سکتا ہے۔اس کے بعد صاحب صدر نے مکالمہ میں حصہ لینے والوں سے پوچھا کہ کیا ان کی رائے میں بہتر نہ ہو گا کہ سیرالیون کے تمام سکولوں میں بچوں کو عیسائیت کے علاوہ اسلام کے متعلق بھی معلومات بہم پہنچائی جائیں تا وہ دونوں مذاہب کی تعلیموں کا موازنہ کرسکیں۔اس سے تمام حاضرین نے اتفاق کیا اور اس بات کی تائید کی کہ چونکہ سیرالیون میں عیسائی اور مسلمان دونوں آباد ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ان دونوں مذاہب کے ماننے والے باہم محبت و مودت سے رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ رواداری برتیں اور آپس میں