تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 638
تاریخ احمدیت 638 جلد 21 لوگوں کو اکٹھا کر کے ایک گھنٹہ تک تقریر کی اور سوالوں کے جواب دیئے۔منروویا کے امیگریشن آفیسر کو مشن کی غرض و غایت بیان کی اور ان کی خدمت میں قرآن مجید اور دیگر کتب کا تحفہ پیش کیا علاوہ ازیں آپ نے 367 فنانشل ایڈوائزر، کلکٹر آف انٹرنل ریونیو، کلکٹر آف کسٹم، ایجوکیشن آفیسر کی خدمت میں لٹریچر پیش کیا۔3 مکرم ساقی صاحب فوجی ہیڈ کوارٹر بار کلے ٹریننگ سنٹر میں متعدد بار تشریف لے گئے اور اسلام کے متعلق مختلف موضوعات پر لیکچر دے کر سوالوں کے جواب دیئے آپ منروویا سے باہر دیہاتوں میں متعدد بار تشریف لے جاتے رہے تقاریر کے بعد حاضرین میں لٹریچر تقسیم کیا۔ایک دفعہ سوالوں کے جواب بھی دیئے۔آپ نے ایک عیسائی مبلغ سے ڈھائی گھنٹے تک تبادلہ خیال کیا۔368 مشرقی افریقہ مغربی افریقہ کی طرح مشرقی افریقہ میں بھی مبشرین احمدیت کی مساعی اس زور شور سے جاری رہیں کہ اسلام واحمدیت کی روز افزوں ترقی کو دیکھ کر عیسائی حلقوں میں شدید اضطراب کے آثار پیدا ہونے شروع ہو گئے۔چنانچہ ملک کے ممتاز اخبار ممباسہ ٹائمز (Mombasa Times) نے 21 جون 1962 ء کی اشاعت میں واضح طور پر لکھا کہ افریقہ میں مسلمان مبلغین ہمارے عیسائی مشنریز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تیز رفتاری سے لوگوں کو اسلام کا حلقہ بگوش بنارہے ہیں۔نیز بتایا ” بہت سے مبصرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر عیسائیت نے خطرہ کا پورے طور پر احساس نہ کیا تو اسلام بآسانی سارے افریقہ کا مذہب بن جائے گا۔تانگانیکا جنوری 1962 ء میں مکرم مولوی محمد منور صاحب مشنری انچارج تانگانیکا نے جنوبی افریقہ سے انڈیا جانے والے دس مسافروں تک پیغام حق پہنچایا۔اس ماہ ٹانگانیکا میں 14 افراد داخل سلسلہ ہوئے۔0 دوسری سہ ماہی 370- مبلغین نے ہر طبقہ کے افراد کو پیغام حق پہنچانے کی بھر پور کوشش کی چنانچہ لٹریچر تقسیم کیا گیا۔سیکنڈری سکول میں 5 تقاریر کے بعد سوالوں کے جواب دیئے گئے۔احمد یہ مسلم لٹریری سوسائٹی کے تحت ایک جلسہ میں بھی 2 تقاریر کی گئیں۔بعض ہندووں اور سکھوں کو بھی تبلیغ کی گئی۔ایک افریقن کی طرف سے 20 ہزار کی تعداد میں پمفلٹ شائع ہوا۔پنگالے میں تعلیم الاسلام پرائمری سکول جاری ہوا۔ان کوششوں