تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 598 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 598

تاریخ احمدیت 598 جلد 21 2- محمد لطیف صاحب آف جا کے چیمہ ضلع سیالکوٹ آپ وقف جدید کے آنریری معلم تھے جو 45 سال کی عمر میں 13 جنوری 1962 ء کو کار کے ایک حادثہ میں شہید ہو گئے۔سیدی حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ان دنوں وقف جدید کے ناظم ارشاد تھے۔آپ نے الفضل 17 جنوری 1962ء میں مرحوم کی بے لوث دینی خدمات کا نہایت دلکش انداز میں تذکرہ فرمایا اور آپ کو نہایت ہی مخلص اور سلسلہ کا فدائی کارکن قرار دیتے ہوئے لکھا:۔تقریباً دو سال کا عرصہ ہوا اپنا نام آنریری طور پر وقف جدید میں پیش کیا اور اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ اس ڈر سے کہ کہیں وقف نا منظور نہ ہو جائے پر زور سفارش کروائی اور بار بار یہ امر واضح کرتے رہے کہ میرا نام معلمین کی فہرست میں شامل کر لیا جائے میں سلسلہ پر بار نہیں بنوں گا۔چنانچہ اس دن سے آج تک نہایت تندہی سے بغیر کسی وظیفہ کے معلم کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور خود کو با قاعدہ سلسلہ کا ملازم تصور کرتے رہے اطاعت شعار محض فرض شناسی کے طور پر نہیں تھے بلکہ شوق تھا کہ اطاعت کا امتحان ہو اور یہ اس پر پورے اتریں چنانچہ چھوٹے چھوٹے امور پر بھی جن میں دفتر ان کو پابند نہیں سمجھتا تھا یہ با قاعدہ اجازت لیا کرتے تھے اور باوجود اس کے کہ آنریری معلمین کے لئے یہ کوئی پابندی نہیں کہ وہ اپنا مرکز چھوڑتے وقت دفتر سے رخصت طلب کریں یہ التزاماً رخصت لیا کرتے تھے“ د تبلیغ کا جنون تھا اور باوجود اس کے کہ علم واجبی سا تھا یہ وفور شوق سے اس کمی کو پورا کر دیا کرتے تھے چنانچہ اپنے خرچ پر بھی سلسلہ کا لٹریچر خرید کر احباب تک پہنچاتے رہتے تھے۔چنانچہ گزشتہ سال انہیں (تعلیمی کلاس میں ) زیادہ حاضریوں میں اول آنے پر جو انعام دیا گیا وہ تمام کتب سلسلہ کی خرید پر خرچ کر دیا۔“ دینی غیرت اور جرأت ایمان بدرجہ وافر پائی جاتی تھی۔1953ء کے فتنہ میں اپنے گاؤں میں انہوں نے جس جرات ایمانی کا مظاہرہ کیا آج تک وہاں کے باشندے اسے یاد کرتے ہیں۔ان دنوں اس علاقہ میں احمدیوں کو نہایت شدید اور حقیقی خطرات در پیش تھے مگر مرحوم ایسے اطمینان سے بے خوف و خطر اپنی احمدیت کا اعلان کرتے پھرتے تھے کہ غیر بھی انگشت بدنداں تھے۔“